ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 27

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۷ اردو تر جمه مورد غرامة من غير جريمة بغير جرم کے چٹی نہیں پڑتی اور بغیر نا فرمانی کے ولانــحـل دار ذلة من ہم ذلّت کے گھر میں نہیں اتر تے بلکہ ہم ہر غير معصية۔بل نامن كل تهمة تہمت اور آفت سے امن میں ہیں اور ہم تمام و آفة و نكفى غوائل فجرة بدکاروں اور کافروں کے مفاسد سے بچائے وكفرة۔فكيف نكفر نعم جاتے ہیں پس ہم کس طرح نعمتیں دینے والوں المنعمين۔و کنا نمشی کا قزل کی نعمت کا انکار کریں اور ہم ان ایام سے پہلے قبل هذه الايام۔وما كان لنا لنگڑے کی سی چال چلا کرتے تھے اور ہمارے لئے ان نتكلم بشيء فى دعوة ممکن نہ تھا کہ ہم دین خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم (۲۰) دين خير الانام۔وكان زمان کی تبلیغ کے لئے کوئی بات کر سکیں۔اور سکھوں الخالصة زمان الذلة والمصيبة کا زمانہ ذلت اور مصیبت کا زمانہ تھا جس میں صغر فيه الشرفاء۔واسادت شرفاء کی تحقیر کی گئی اور لونڈیوں نے سرداروں الآمـاء۔وصبت علينا مصائب کو جنم دیا اور ہم پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ ينشق الـقـلـم بذكرها قلم ان کے ذکر سے ٹوٹ جاتا ہے اور ہم اپنے و خرجنا من اوطاننا باکین وطنوں سے روتے ہوئے نکلے پس اس حکومت قلب امرنا بهذه الدولة کی وجہ سے ہمارا معاملہ تنگی سے آسودگی اور من بؤس الى رخاء۔و من تیز وتند ہوا سے نرم رفتار ہوا میں بدل زغرع الى رخاء۔وفتح لنا گیا۔اور ہمارے لئے اس کی عنایات سے بعناياتها باب الفرج و اوتینا کشادگی کا دروازہ کھولا گیا اور ہمیں قید و بند الحرية بعد الاسر والعرج کے بعد آزادی دی گئی۔اور ہم مالدار اور وصرنا متنعمين مرموق الرخاء رشک سے دیکھے جانے والے ہو گئے بعد بعدما كنا فی انواع البلاء اس کے کہ ہم مختلف مصیبتوں میں مبتلا تھے ورأينالنا هذه الدولة كريف اور ہم نے اس حکومت کو اپنے لئے قحط ۴۰۱