ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 17

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۱۷ اردو تر جمه سببًا لهذه الانعامات۔و اخرجنا انعامات کا وسیلہ بنایا ہے اور ہمیں اس (حکومت) بيديها من سجن البليات اليس کے ہاتھوں مصائب کے زندان سے نکالا ہے کیا یہ بحق ان نرفع لها اكف الضراعة واجب نہیں کہ ہم تضرع اور ابتہال سے اس والابتهال۔ونحسن اليها بالدعاء (گورنمنٹ) کی خاطر ہاتھ اُٹھائیں اور دعا کے كما احسنت الينا بالنوال۔فان ذریعہ اس پر احسان کریں جس طرح اس نے ہم پر لنابها قلوبًا طافحة سرورًا و اپنی نوازشات سے احسان کیا ہے پس اس کی وجہ وجوها متهللة و مستبشرة سے ہمارے دل خوشی سے معمور ہیں اور چہرے (۱۳) حبورا۔و أَيَّامًا ملئت امنا و دمک رہے ہیں اور خوش و خرم ہیں اور دن امن اور حرية۔وليالي ضمخت راحة و آزادی سے لبریز ہو گئے ہیں، اور راتیں آرام اور لهنيةً۔و ترای منازل مزدانة خوش حالی کے عطر سے ممسوح ہیں، اور تو گھروں کو بابهج الزينة۔ولا خوف و لا فزع حسین ترین زینت کے سامانوں سے آراستہ دیکھتا ولو مررنا على اسود العرينة ہے، اور کوئی خوف و ڈر نہیں خواہ ہم کچھاروں کے ضربت خزى الفشل علی شیروں کے پاس سے گزریں۔ظالموں پر نامرادی الظالمين۔وضاقت الارض علی کی رسوائی ڈالی گئی اور جھوٹی افواہیں پھیلانے المرجفين المبطلين۔و نعيش والے جھوٹے لوگوں پر زمین تنگ ہوگئی ہے اور ہم مستريحين آمنين۔فاتی ظلم كان آرام سے امن میں رہتے ہیں پس اس ظلم سے اكبر من هذا الظلم ان لا نشكر بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے کہ ہم اس محسن حکومت کا هذه الدولة المحسنة ونضمر شكر ادانہ کریں اور ہم کینہ اور شر اور بغاوت (دل الحقد والشر والبغاوة۔أهذا میں چھپائے رکھیں۔کیا یہ نیکی ہے؟ نہیں بلکہ ) صلاح بل فسق ان کنتم عالمین فق ہے اگر تم جانتے ہو۔پس ہلاکت ہے ان فويل للذين يبغون الفساد لوگوں کے لئے جو فساد چاہتے ہیں اور دل میں عناد ويضمرون العناد والله لا يحب رکھتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۳۹۱