ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 16

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۱۶ اردو تر جمه سرحتنا۔وكاد يحل بمنبتنا اُترے اور ہم امن پانے والے ہو گئے و اصبحنا آمنين حتى الفینا یہاں تک کہ ہم نے ہر اس شخص کو جس نے عناد كل من الـوى عنقه من العناد کی بناء پر روگردانی کی سچا دوست اور محبت کالا صادق و اهل الوداد کرنے والوں کی مانند پایا۔اور سانپ صفت و تبدى الاساود کاعوان دشمن مصیبت کے وقت ہمدرد مددگاروں کی طرح الناد۔وقلب عُجرنا و بُجرنا ہو گئے۔ہمارے ظاہر و باطن کو بدل کر اصلاح و نقل الى الصلاح والسداد۔اور راستی کی طرف منتقل کر دیا گیا اور ہم شدید قحط ونَضَرُنا بدولة جاءت سالی کے وقت موسم بہار کی پہلی بارش کی مانند اس كعهاد۔عند سنة جماد۔حکومت کے آنے سے تروتازہ ہو گئے پس اس فرأت هذه الدولة دخيلة حکومت نے ہمارے اندرونی معاملات کو دیکھا اور امرنا۔و اطلعت علی ذوبنا ہماری لاغری اور ہماری کمزوری پر اطلاع پائی تو اس وضمرنا فآوتنا و رحمتنا۔(حکومت) نے ہمیں پناہ دی اور ہم پر رحم کیا۔و واستنا و تفقدتنا۔حتى عاد ہماری غمخواری کی اور ہمارا خیال رکھا یہاں تک کہ امرنا الی نعیم بعد عذاب درد ناک عذاب کے بعد ہم آسودہ حال ہو گئے۔اليم۔فالأن نرقد الليل ملاً پس اب ہم رات کو پرسکون نیند سوتے ہیں اس حال اجفاننا ولا نخس ولا وخز میں کہ ہمارے جسموں کو کوئی چیز نہ بے سکون کرتی لابداننا۔تغرد في بساتيننا ہے نہ تکلیف دیتی ہے۔ہمارے باغات میں بلابل التهاني و النعماء۔اخلاص کے عظیم درخت پر جھولتے ہوئے بلبلیں مايسة على دوحة الصفاء خوشی اور تنعیم سے چہچہاتی ہیں۔بعد اس کے بعدما كنانُصدم من انواع کہ ہم طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا تھے۔پس البلاء۔فانصفوا اليس بواجب تم انصاف کرو کہ یہ واجب نہیں کہ ہم ایسی حکومت ان نشكر دولة جعلها الله کا شکریہ ادا کریں جسے اللہ تعالیٰ نے ان ۳۹۰