تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 544
544 ربوہ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، کراچی، راولپنڈی، سرگودھا، لاہور، لائل پور ، کھاریاں اور محمد آبا دسندھ کی ناصرات کا کام با قاعدہ اور قابل تعریف رہا۔ربوہ میں ۱۹۵۵ء میں سات حلقے تھے۔۱۹۵۸ء تک دس حلقے ہو گئے تھے۔اجلاسوں کے لئے تفصیلی پروگرام مقرر کیا گیا۔جس کی اہم شقیں یہ تھیں :۔ا۔تلاوت قرآن کریم تلاوت قرآن کریم ہر بچی کے لئے لازمی قرار دی گئی اور قرآن مجید کے پہلے رکوع سے شروع کیا جائے تا کہ آہستہ آہستہ قرآن مجید کا دور مکمل ہو سکے اور ان کی غلطیاں درست ہوسکیں۔نظم:۔درثمین اور کلام محمود میں سے نظمیں پڑھی جائیں اور ان کے معنے بتائے جائیں۔اور حفظ کرنے کا بھی انتظام کیا گیا۔چنانچہ بہت سی لڑکیوں نے بڑے شوق سے لمبی نظمیں بھی حفظ کیں۔۳۔حدیث :۔چہل احادیث زبانی یاد کرائی جائے۔۴۔کہانی :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کہانی کے رنگ میں۔۵۔تقاریر:۔سادہ اور عام فہم عنوانات پر زبانی ہی تقریریں کروائی جائیں تا کہ لڑکیوں کو زبانی تقریروں کی مشق اچھی طرح ہو جائے۔اس کے نتیجہ میں لڑکیاں بہت شاندار تقریریں کرنے لگ گئیں۔۶۔سوال و جواب:۔آسان اور دلچسپ رنگ میں سوالات اور ان کے جوابات بتائے جائیں۔لجنہ کے اجلاسوں میں ناصرات کی رپورٹ سنائی جانے کا انتظام کیا جائے۔امتحانات:۔مقررہ نصاب میں سے کچھ حصہ مقرر کر کے اعلان کروایا جا تا اور پھر اس کا امتحان لیا جاتا۔مثلاً نما ز ساده و با ترجمه ، چہل احادیث، ادعیۃ الرسول کی مسنون دعائیں ، در مشین کی نظمیں اور سیرۃ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، پیشگوئی مصلح موعود وغیرہ وغیرہ لا توجہ دینے سے اتنی کثرت سے بچیاں امتحان دینے لگیں کہ ان کی تعداد ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔۲۱؍ جولائی ۱۹۵۷ء کو ( فتنہ منافقین کے پیش نظر ) رسائل خلافت کا جو امتحان ہوا تھا۔اس میں بھی لڑکیوں نے شرکت کی۔جلسے:۔یوم مصلح موعود ، یوم خلافت، یوم سیرۃ النبی اور دیگر جماعتی تقریبات پر بھی جلسے منعقد ل الفضل ۱۱۔اپریل ۱۹۵۸ء صفحہ ۶