تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 545
545 کئے گئے جن میں بچیوں کے انعامی تقریری مقابلے کروائے جاتے۔فتنہ منافقین کے ایام میں برکات خلافت پر ایک خاص جلسہ منعقد ہوا جس میں خلافت کے ساتھ عقیدت و وابستگی پر ایک قرارداد پاس کر کے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھجوائی گئی۔ان جلسوں کے موقع پر سٹال بھی لگائے گئے تھے جن کی آمد سالانہ اجتماع ناصرات کے لئے خرچ کی جاتی تھی۔جلسوں میں بزرگان سلسلہ کی تقاریر کا انتظام بھی کیا جاتا۔مثلاً ابوالبشارت مولانا عبدالغفور صاحب مرحوم مبلغ سلسلہ اور چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلاد عربیہ وافریقہ اور حافظ محمد رمضان صاحب مرحوم نے نقار بر فرمائیں۔میجک لینٹرن: فروری ۱۹۵۷ء میں مکرم ماسٹر محمد شفیع صاحب استکم کا لیکچر بذریعہ میجک لینٹرن کروایا سلائیڈ علمی تبلیغی، تاریخی اہمیت کی حامل تھیں۔یہ لیکچر بڑی دلچسپی سے سنا گیا۔ایک لیکچر قاضی محمد رشید صاحب مرحوم کے مکان پر اور دوسرا لجنہ کے ہال میں ہوا۔داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا جو دو آنے تھا۔قریباً ایک صد روپے اکٹھا ہوا۔یہ بھی اجتماع کے اخراجات کے کام آیا۔استقبال حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی: مورخه ۱۵ ستمبر کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سفر یورپ سے (حضور بغرض علاج تشریف لے گئے تھے ) بخیریت واپس ربوہ تشریف لائے۔اس موقع پر ناصرات نے بھی حضور کا پر تپاک خیر مقدم کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔ناصرات سے محلہ وار سبز جھنڈے اور قطعات تیار کروائے گئے تھے۔جن پر سنہری حروف میں اھلاً و سھلاً و مرحباً ، خوش آمدید اور دیگر عبارتیں اور اشعار لکھوائے گئے تھے۔استقبال کرنے کے لئے ناصرات الاحمدیہ کو دفاتر تحریک جدید سے ملحق پلاٹ میں مکرم امیر صاحب مقامی کی اجازت سے کھڑا کیا گیا تھا۔حضور کی تشریف آوری پر چھوٹی بچیوں نے جو اشعار مل کر خوش الحانی کے ساتھ پڑھے ان میں سے چند یہ ہیں:۔