تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 543 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 543

543 آپ کی اہلیہ محترمہ عائشہ صاحبہ کو بھی لجنہ اماءاللہ کی گرانقدر خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔سیدہ طینت صاحبہ کی امریکہ میں وفات :۔مکرم سید جواد علی صاحب مبلغ امریکہ کی اہلیہ محترمہ سیدہ طینت صاحبه ۶ ار مارچ ۱۹۵۸ء کو ٹیس برگ میں وفات پا گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی وفات پر لجنہ مرکزیہ نے ۲۷ مارچ کے اجلاس میں یہ تعزیتی قرارداد پاس کی کہ لجنہ مرکز یہ اس صدمہ عظیمہ پر مرحومہ کے تمام لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سید جواد علی صاحب اور مرحومہ کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور تین سالہ بچی کا بھی خود حافظ و ناصر ہو۔! مرحومہ کی وفات پر لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ شہر نے بھی تعزیتی قرارداد پاس کی کہ:۔لجنہ اماءاللہ شہر سیالکوٹ کی تمام ممبرات سیدہ طینت جواد صاحبہ کی بے وقت موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہیں اور ان کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے دست بدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اس کی معصوم بچی کا خود حافظ و ناصر ہو۔اور سید جواد علی صاحب کو جو اس وقت وطن سے باہر ہیں اس صدمہ عظیم کو برداشت کرنے کی توفیق دے۔آمین ناصرات الاحمدیہ :۔۱۹۵۵ء کے آغاز میں جب عاجزہ مستقل رہائش کے لئے ربوہ آگئی تو گیارہ مارچ ۱۹۵۵ء کو ناصرات الاحمد یہ مرکزیہ کا شعبہ پھر میرے سپرد ہوا۔مقررہ نصاب کے مطابق سال بھر کا پروگرام وضع کیا گیا اور پھر بیرونی مقامات پر بالعموم اور ربوہ میں بالخصوص اس پر عمل کرنے کے لئے بذریعہ دورہ جات، خطوط، اعلانات مصباح والفضل وسرکر توجہ دلائی جاتی رہی جس سے کام میں نمایاں اور غیر معمولی ترقی ہوئی۔متعدد مقامات پر ناصرات الاحمدیہ کا قیام ہوا۔اور کئی جگہ احیاء کیا گیا۔ے رجسٹر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ الفضل ۱۲۰ پریل ۱۹۵۸ء صفحه ۴