تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 16
16 وہاں نرغے سے نکلنے والے جانبار جنگ جو اور بہادر سپاہی تھے جو جنگ کی صعوبتیں جھیلنے کے عادی اور خطرات میں سے گزرنے کے عادی تھے لیکن یہاں زیادہ تر کم سن حتی کہ دودھ پیتے بچے پردہ میں رہنے والی خواتین، بیمار اور کمزور عورتیں اور مرد تھے جن کا اس قسم کے مصائب اور مشکلات میں سے گزرنا تو الگ رہا کبھی ان کے خیال میں بھی نہ آیا تھا۔ڈنکرک سے بچ کر جانے والوں کے لئے ان کا اپنا وطن اور اپنا ملک الفت اور محبت کی گود پھیلائے اور اپنے ہم وطن اور عزیز اپنے سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے موجود تھے لیکن قادیان سے سب کچھ لٹکا کر آنے والوں کے لئے ایک محدودسی جگہ مہیا ہو سکی تھی۔وہاں سے نکل کر آنے والوں کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان با فراط مہیا تھے لیکن یہاں بیٹھنے تک کے لئے جگہ کا میسر آنا بھی مشکل تھا اور کھانے پینے کے انتظامات میں شدید مشکلات حائل تھیں۔با وجود ان تمام مشکلات کے حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح اثنی ایدہ اللہ تعالی نے ایسا انتظام فرمایا کہ تمام کے تمام بچے ، خواتین اور تمام کے تمام مرد بغیر کسی استثناء کے بخیر و عافیت اس سیل بلا سے نکل آئے۔راستہ کے تمام خطرات کو کامیابی سے عبور کر کے نکل آئے اور کسی ایک جان کے نقصان کے بغیر ہزاروں انسان نکل آئے۔حالانکہ وہ مسلسل ایک لمبا عرصہ تک گھروں پر رہتے ہوئے خوف وخطر میں گھرے رہے۔پھر گھروں سے باہر نکالے جانے کے بعد کئی دنوں تک جان اور آبرو کے خطرہ میں مبتلا رہے۔دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ خطرات اور مصائب سے بچ کر نکلنے کے تمام راستے مسدود کر دے۔پھر ہزاروں بچوں اور عورتوں کو قادیان کی آخری رات کھلے میدان میں ہند وسکھ ملٹری اور پولیس اور گردونواح کے ڈاکو اور لٹیرے سکھوں کے شدید نرغہ میں گزارنی پڑی۔پھر رستہ کا چپہ چپہ خطرات سے پر تھا اور جا بجا ظالم اور کمینہ صفت دشمنوں کے مظالم کے نشانات قبروں کی شکل میں موجود تھے لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ذریعہ جماعت پر اتنا عظیم الشان فضل کیا کہ اس نے ان تمام خوفناک مراحل کو بخریت عبور کر لیا ہے تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۶۸ تا ۷۶