تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 17 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 17

17 مندرجہ بالا قیمتی مضمون سے واضح ہو جاتا ہے کہ قادیان سے ہجرت اور بالخصوص عورتوں اور بچوں کا بحفاظت انخلاء اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا جو حضرت مصلح موعودؓ کے ذریعہ ظاہر ہوا۔چنانچہ حضور خود اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔”ہمارا قادیان سے آنا ہی لے لو۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ اسی وجہ سے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔حالانکہ اس حادثہ کی وجہ سے ہمارے ایمان تو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔اول تو جس رنگ میں ہماری قادیان کی جماعت کے افراد دشمن کے حملوں سے محفوظ رہ کر پاکستان پہنچے ہیں اس کی نظیر مشرقی پنجاب کی کسی اور جماعت میں نہیں ملتی۔جس طرح ہماری عور تیں محفوظ پہنچی ہیں۔جس طرح ہمارے مرد محفوظ پہنچے ہیں اور جس طرح بیسیوں لوگوں کے سامان بھی ان کے ساتھ آئے ہیں اسکی کوئی ایک مثال بھی مشرقی پنجاب میں نظر نہیں آسکتی۔نہ لدھیانہ کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے نہ جالندھر کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔نہ فیروز پور کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔لدھیانہ اور جالندھر کے قافلوں کے ساتھ فوجیں تھیں۔حفاظت کا سامان تھا مگر پھر بھی ان میں سے ہزاروں لوگ مارے گئے لیکن قادیان کے لوگوں کے ساتھ کوئی فوج نہیں تھی پھر بھی وہ سب کے سب سلامتی کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے۔محترم خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم کے مضمون کے جو اقتباس او پر درج ہو چکے ہیں ان میں انہوں نے بتایا ہے کہ کئی مخلص احمدی عورتوں نے با اصرار اس امر کا اظہار کیا کہ موت کے خطرہ سے انہیں قادیان سے باہر نہ بھیجا جائے۔اگر اب موت ہی مقلد رہے تو قادیان سے بہتر جگہ اور کونسی ہوسکتی ہے۔“ ان ایام میں کئی احمدی عورتوں نے مومنانہ مجرأت و دلیری کا نمونہ دکھایا بلکہ اپنے بیٹوں کو بھی یہ نصیحت کی کہ دیکھنا اس نازک موقع پر قربانی اور فدائیت کا نمونہ پیش کرنا اور کوئی کمزوری نہ دکھانا۔چنانچہ ایک مخلص احمدی خاتون کی اہلیہ صاحبہ مستری نور محمد صاحب گنج مغلپورہ لا ہور نے جن کے ایک بیٹے محمد لطیف صاحب امرتسری حفاظت مرکز کے سلسلے میں قادیان میں مقیم تھے اپنے اس بیٹے کو ایک خط میں لکھا کہ:۔تاریخ احمدیت جلد نمبرا اصفحہ ۷۷۷۶ کے مکرم مولانامحمد صدیق صاحب امرتسری سابق مبلغ افریقہ کی والدہ محترمہ زینب بی بی صاحبہ۔