تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 15
15 ہے۔میں تو قادیان میں بیٹھا ہوا۔جوں جوں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کو اور اس کامیابی کو دیکھتا اس کی مثال ڈھونڈنے سے قاصر ہوتا جاتا۔میرے دماغ میں موت اور تباہی کے نہایت وسیع طوفان سے انسانوں کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچانے کی بڑی سے بڑی مثال ڈنکرک کے واقعہ کی آئی جبکہ گزشتہ جنگ عظیم کے دوران میں انگریزی اور ہندوستانی بہت بڑی سپاہ اس مقام پر جرمنی کی قہرمانی فوجوں کے گھیرے میں گھر گئی تھی اور انگریزوں نے اپنی تمام مساعی اس کو نکال کر لے جانے میں صرف کر دی تھی۔آخر بہت بڑا جانی و مالی نقصان برداشت کر کے جس قدر جانوں کو بھی انگریز بچا کر لے جانے میں کامیاب ہوئے اسے بہت بڑا کارنامہ سمجھا گیا اور فی الواقعہ یہ بڑا شاندار کارنامہ ہی تھا۔لیکن میری نگاہ میں قادیان سے بچوں ، عورتوں اور آخر میں مردوں کو موت کے منہ سے نکال کر لے جانے کا واقعہ اس سے بھی بڑھ کر شاندار اور اہم ہے۔کسی خوش فہمی کی بناء پر نہیں بلکہ دلائل کی بناء پر سنئیے :۔(۱) ڈنکرک میں وقتی طور پر بے شک دشمن کو غلبہ حاصل ہو گیا تھا اور اسکی طاقت زیادہ تھی مگر باوجوداس کے مقابلہ میں انگریز بھی بالکل بے دست و پا نہ تھے۔ان کے پاس بھی جنگ کا ہر قسم کا سامان موجود تھا جسے حتی الامکان انہوں نے استعمال کیا اور اس سے انہیں بیچ کر نکلنے میں بڑی مدد لی لیکن یہاں یہ حالت تھی کہ ادھر تو ہندو اور سکھ ملٹری کے پاس بندوقیں۔مشین گنیں۔برین گنیں اور بم تک تھے لیکن ادھر احمدیوں کے پاس لاٹھیاں بھی نہ تھیں اور الفاظ کے اصل مفہوم کے مطابق وہ بالکل خالی ہاتھ تھے۔پھر وہاں تو نرفعے سے نکالنے کے بیسیوں ذرائع ان کے پاس تھے۔ہر قسم کے جہاز کشتیاں وغیرہ لیکن یہاں اس لحاظ سے بھی کچھ نہ تھا۔ہماری ذاتی اور سلسلہ کی کاریں اور ٹرک چھین لئے گئے۔گھوڑے، خچریں۔گدھے تک سکھ ڈا کو دن دہاڑے جبر لے گئے۔باہر سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے گڈوں کے بیل ملٹری اور پولیس بندوقوں کے ذریعہ ہتھیا کر لے گئی غرض قادیان میں رہنے والوں کی نقل و حرکت کے نہایت معمولی سے معمولی ذرائع کا بھی خاتمہ کر کے انہیں مکمل طور پر نرغہ میں لے لیا گیا۔ڈنکرک سے انگریزی اور ہندوستانی فوجوں کو نکالنے کا بیڑا ایک عظیم الشان حکومت نے اٹھایا تھا اور یہ انتظام ایک وسیع سلطنت کے ہاتھ میں تھا لیکن قادیان کی جماعت احمدیہ کے بچوں ،عورتوں اور مردوں کو سیلاب بلا سے بچانے کا کام انگلیوں پر گنے جاسکنے والے چند افراد کے کمزور اور نحیف ہاتھوں میں تھا۔