تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 488
488 کے بعد زیر صدارت محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد ثریا عبدالرحمن، امۃ القیوم بشیر احمد، ذکیہ عرفانی، فرخندہ بیگم صاحبہ اور نصرت عبدالمالک صاحبہ نے تقاریر کیں۔اس اجلاس میں اشعار کا ایک پروگرام بھی پیش کیا گیا جس کے لئے شرط یہ تھی کہ صرف در نشین اور کلام محمود کے اشعار پیش کئے جائیں۔بہنوں نے اس پروگرام کو دلچسپی سے سنا۔اس میں دونوں گروپ برابر رہے۔گروپ لیڈر فرحت بیگم اور حبیبہ بیگم تھیں۔اس کے بعد محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے خطاب کیا۔محترمہ صدر صاحبہ لجنہ کراچی نے استانی صاحبہ اور حاضر خواتین کا شکریہ ادا کیا۔چندہ تحریک جدید اور دوسری تحریکات کی طرف توجہ دلائی۔آخر میں استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے لجنہ کراچی کی ان کامیاب ممبرات کو انعامات اور سندات دیں جو لجنہ مرکزیہ کی طرف سے لئے گئے امتحانات میں کامیاب ہوئی تھیں۔پانچ بجے دعا کے بعد جلسہ اختتام پذیر ہوا۔لجنہ اماءاللہ کراچی کی تربیتی کلاس:۔۱۹۵۷ء میں لجنہ اماءاللہ کراچی نے پہلی بار ایک تربیتی کلاس کا انتظام کیا۔یہ کلاس بارہ روزہ تھی۔اس میں روز جناب مولا نا عبدالمالک صاحب اور مرزاعبداللطیف صاحب نے بیلچر دیئے۔الوداعی پارٹی ۱۹۵۷ء میں صاحبزادی امتہ السلام بیگم صاحبہ نائبہ صدر لجنہ اماءاللہ کراچی لا ہور تشریف لے گئیں۔لجنہ اماءاللہ کراچی کی طرف سے انہیں الوداعی پارٹی دی گئی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور ان کی جگہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کا مٹی کو نائب صدر لجنہ کراچی مقرر کیا گیا۔ایک خصوصی تقریب :۔مارچ ۱۹۵۷ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کراچی تشریف رکھتے تھے۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ بھی حضور کے ساتھ تشریف لے گئی تھیں۔لجنہ اماءاللہ کراچی نے آپ کی آمد پر ایک ا الفضل ۲۴۔نومبر ۱۹۵۷ء صفحه ۵