تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 487 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 487

487 جہاں تک عورتوں کے لئے معیار وصیت کا سوال ہے میرے نزدیک یہ مسئلہ اس طرح حل ہو سکتا ہے کہ عورتوں کے مہر کو معیار قرار دے لیا جائے۔جس عورت کی کوئی آمد یا جائداد نہ ہو وہ اپنے مہر پر وصیت کرے۔ساتھ وصیت پر اس کے خاوند کے بھی دستخط کرائے جائیں تا کہ جب وہ مہر ادا کرے تو وصیت کا حصہ وضع کر کے انجمن کو دے۔اور اگر وہ بیوی سے مہر معاف کرائے گا تو وصیت کا حصہ وہ معاف نہیں کرائے گا اسے بہر حال انجمن کو ادا کرنا ہوگا۔اسی ضمن میں حضور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوستوں کو شریعت کے مطابق ورثہ میں عورتوں کا حصہ لازمی طور پر ادا کرنا چاہیئے۔اسی طرح بیوہ عورتوں کے لئے بھی وصیت کرنا آسان ہو جائے گا۔رہا غیر شادی شدہ عورتوں کی وصیت کا سوال تو جب تک ان کی شادی نہ ہو ان کے لئے یہی شرط ہے کہ ان کے پاس جو کچھ ہو خواہ اس کی مالیت کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو وہ اس کی ہی وصیت کریں لے لجنہ اماءاللہ کراچی کے دوسرے سالانہ اجلاس کی مختصر روئداد :۔لجنہ اماء اللہ کراچی کا دوسرا سالانہ جلسہ ۱۷/ نومبر ۱۹۵۷ء کو احمدیہ ہال میں منعقد ہوا۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ لجنہ مرکز یہ ربوہ کی طرف سے بطور نمائندہ شریک ہوئیں۔پہلا اجلاس ۱۰ بجے صبح زیر صدارت محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری محمد حسین صاحب مرحوم شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم نظم اور عہد نامہ کے بعد محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صدر لجنہ کراچی نے افتتاحی تقریر فرمائی۔ان کے بعد استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سکرٹری لجنہ مرکز یہ ربوہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔پھر بیگم شاہنواز صاحبہ نے لجنہ کراچی کی سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی۔فرحت جبین اور امہ الوحید کے مضامین کے بعد محترمہ محمودہ بیگم صاحبہ نے تقریر فرمائی اور لجنہ کی ترقی کے لئے مفید اور قابل قدر تجاویز پیش کیں۔اسی اجلاس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور پیش گوئیوں کو مذاکرہ علمیہ کے رنگ میں پیش کیا گیا جس میں جمیلہ عرفانی صاحبہ اور شمس النساء خالد عرفانی صاحبہ نے حصہ لیا۔پہلے اجلاس کے بعد دو گھنے کا وقفہ دیا گیا۔لجنہ اماءاللہ کراچی کی طرف سے اس موقع پر مختلف چیزوں کے اسٹال لگائے گئے تھے۔ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کرنے کے بعد دوسرا اجلاس دو بجے دو پہر ا الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۵