تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 408
408 گیا۔آپ بھی ٹرینڈ ہیں اور ڈبل ڈپلومہ کیا ہوا ہے۔۱۹۶۳ء سے تیسری ٹیچر کا اضافہ کیا گیا جو رشیدہ بنت احمد دین صاحب زرگر تھیں۔جنہوں نے چند سال بعد شادی ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ دیا۔اور ان کی جگہ اہلیہ صاحبہ محمد ظریف صاحب کو رکھا گیا۔سکول میں ابتداء ہی سے دینیات پڑھانے کا بھی انتظام ہے۔قرآن مجید اور ابتدائی دینی تعلیم محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ اہلیہ حافظ بشیر الدین صاحب مارچ ۱۹۵۷ء سے دے رہی ہیں۔مئی ۱۹۵۶ء ہ میں پہلی بار ۲۴ طالبات نے داخلہ لیا۔سکول جاری ہونے پر ایک مشین خریدنے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ساڑھے چارصد روپے کا عطیہ سکول کو دیا ہے اس سکول کی نگران محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ کو ہی مقرر کیا گیا۔جو ۱۹۶۳ء تک اس عہدہ پر رہیں۔چنانچہ ان کی طرف سے ماہانہ رپورٹ سکول کی ترقی کی الفضل میں شائع ہوتی رہی۔پہلی دفعہ لجنہ مرکزیہ کی طرف سے ۲۶ / جون ۱۹۵۶ء کو سکول کا معائنہ کیا گیا۔یہ معائنہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سکرٹری لجنہ اماء اللہ نے محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بیگم حضرت مرزا عزیز احمد صاحب اور مسز شاہ صاحبہ پرنسپل جامعہ نصرت کی معیت میں کیا۔سکول کی ترقی دیکھ کر اظہار خوشنودی فرمایا اور اپنے قیمتی مشوروں سے نواز ا سے سکول کے علاوہ طالبات کو کام سکھانے کے آرڈر پر کام لینا بھی شروع کیا گیا تا کہ سکول کی آمد بڑھے۔۱۹۵۷ء کے اجتماع پر پہلی بار نصرت انڈسٹریل سکول کی طرف سے صنعتی نمائش لگائی گئی ہے۔جو باقاعدگی سے ہر سال لگائی جاتی ہے۔سکول کی بلڈنگ کے لئے محترمہ کلثوم باجوہ صاحبہ نے دو ہزار روپے جمع کر کے دیئے جو سکول کی عمارت پر خرچ کئے گئے۔محترمہ موصوفہ ۱۹۵۶ء سے ۱۹۶۲ ء تک دست کاری کی سکرٹری رہیں۔اجتماع ۱۹۵۶ء کے موقع پر لجنہ مرکزیہ کی طرف سے تحریک کی گئی کہ ہر ضلع کی بجنات مل کر کم از کم ایک مشین کی قیمت دیں یا خود مشین خرید کر سکول کے لئے وقف کریں۔۵ ا الفضل ۱۵ احسان / جون ۱۹۵۶ء ۱۳۲۵ بش صفریم ۲ الفضل ۶ روفا/ جولائی ۱۹۵۶ء ۱۳۲۵۷ ہش صفحه ۶ / الفضل ۱۵ ظهور/ اگست ۱۹۵۶ء ، ۱۳۲۵ ہش صفحه ۷ ۴ الفضل ۱۶ را خاء / اکتوبر ۱۹۵۷ء، ۱۳۳۶ ہش صفحه ۶ ه الفضل ۴ رنبوت / نومبر ۱۹۵۶ء ، ۱۳۳۵ ہش صفحه ۴