تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 407
407 کہ وہ عورتیں جن کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں وہ محنت کر کے روزی کماسکیں۔یہ کام ۱۹۴۰ ء تک جاری رہا۔اور اس میں اہم اور نمایاں کام محترمہ عارفہ بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ سردار کرم داد خان صاحب اور محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ نابینا نے ادا کیا۔ہجرت کے بعد ربوہ میں مرکزی لجنہ اماءاللہ نے پھر دستکاری کے کام کو رواج دینے کے سوال پر غور کیا۔اس میں نمایاں حصہ محترمہ کلثوم بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ مبلغ سوئٹزر لینڈ کا ہے۔وہ ان دنوں سکرٹری خدمت خلق کے عہدہ پر فائز تھیں۔انہوں نے شعبہ خدمت خلق کے زیر انتظام جلسہ سالانہ پر پہلی بار ۱۹۵۰ء میں خدمت خلق کا سٹال لگایا۔اور اس کے بعد بھی لگاتی رہیں۔اس سے جو فنڈ جمع ہوا، اس کا منافع دستکاری کے لئے پیش کیا۔لے جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو بیگم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے مخیر احباب و خواتین سے بھی سکول کے اجراء کے لئے اعانت کی اپیل کی۔جس پر چوہدری شاہ نواز صاحب نے ۲۵ روپے ماہوار دینے کا وعدہ کیا اور ایک اور صاحب نے بھی ، اروپے ماہوار دینے کا وعدہ کیا۔سے بیگم چوہدری غلام احمد صاحب مینیجنگ ڈائریکٹر شاہنواز لمیٹڈ نے اروپے ماہوار دینے کا وعدہ کیا۔۳ یہ اصحاب کچھ عرصہ تک با قاعدہ سکول کی مدد کرتے رہے۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء۔مارچ ۱۹۵۴ء کو لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے فیصلہ کیا کہ ایک سال تک دستکاری کا شعبہ شعبہ خدمت خلق کی زیر نگرانی رہے۔اس کے لئے ایک باقاعدہ تنخواہ دار کارکن رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جو بچیوں کو سلائی سکھائے اور آرڈر پر کام کروائے۔امتہ الوکیل صاحبہ ہمشیرہ عبدالودودخاں صاحب نے ابتداء میں ڈھائی ماہ کام کیا ہے۔پھر وقفہ وقفہ کے بعد کچھ اور عرصہ بھی کام کرتی رہیں۔لیکن دستکاری سکول کا با قاعدہ افتتاح مئی ۱۹۵۶ء میں ہوا۔جس کے لئے سب سے پہلی استانی محترمہ صابرہ بیگم صاحبہ بنت چوہدری عبدالرحمن صاحب راولپنڈی کا تقرر کیا گیا۔آپ نے ڈبل ڈپلومہ کیا ہوا ہے اور ٹرینگ بھی حاصل کی ہوئی ہے۔مئی ۱۹۵۶ء سے آپ نصرت انڈسٹریل سکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں۔بعد میں جلد ہی محترمہ امۃ النصیر صاحبہ بنت چوہدری رحمت اللہ صاحب کا تقرر کیا ایر پورٹ لجنہ مرکز یہ ۵۷ - ۱۹۵۸ء ۲ مصباح جنوری ۱۹۵۶ء صفحه ۶ ۳ الفضل ۱۵ اگست ۱۹۵۶ء صفحه ۷ مصباح اکتوبر ۱۹۵۴ء، رپورٹ لجنہ مرکز یه ماه جنوری تا جون ۱۹۵۴ء صفحه ۳۹