تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 234 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 234

234 ۱۹۵۳ء میں کالج کی عمارت جو صرف چار کمروں پر مشتمل تھی تیار ہوئی اور کالج اس میں منتقل ہو گیا۔آہستہ آہستہ کمروں میں اضافہ ہوتا رہا۔گو اب بھی طالبات کی تعداد کے مطابق عمارت نہیں ہے تا ہم ایک خاصی وسیع عمارت بن چکی ہے۔جس میں ہوٹل، دفتر ، دارالمطالعہ اور طالبات کے لئے کمرے وغیرہ شامل ہیں۔۱۹۶۱ء میں محترمہ پرنسپل صاحبہ کی تحریک پر طالبات نے چندہ جمع کیا جس سے بارہ دری تعمیر کی گئی اور طالبات جامعہ نصرت کو فارغ وقت میں بیٹھنے کی کافی سہولت ہوگئی۔۱۹۶۲ء میں ایف۔اے کلاسز کو ڈگری کلاسز سے علیحدہ کر دیا گیا۔اس سلسلہ میں پچاس ہزار کی رقم گورنمنٹ مغربی پاکستان سے موصول ہوئی چنانچہ یہ رقم نصرت گرلز ہائر سیکنڈری سکول کی عمارت پر خرچ کر دی گئی۔۱۹۶۳ء میں ہائر سیکنڈری سکول بند کر دیا گیا اور ایف۔اے کلاسز کو دوبارہ جامعہ نصرت سے ملحق کر دیا گیا چنانچہ یہ تبدیلی اس عمارت پر اثر انداز ہوئی جو کہ پہلے ہی ڈگری کلاسز کے لئے ناکافی تھی اس لئے ثانوی جماعتوں کا بھی اس مختصری عمارت میں سما جانا ناممکن تھا چنا نچہ ان کو وقتی طور پر نصرت گرلز ہائی سکول کی عمارت میں ہی رکھا گیا اس کے بعد چھ ماہ تک جامعہ نصرت میں خیموں میں وہ کلاسز جاری رہیں۔۱۹۶۵ء میں کیفے ٹیریا کی عمارت مکمل ہوئی اور ایک وسیع کھانے کا کمرہ ہوٹل میں تعمیر کیا گیا۔اسی سال تین کمرے مزید تعمیر کئے گئے۔دار الاقامة :- جامعہ نصرت کالج کے ساتھ دارالاقامہ کا بھی انتظام کیا گیا۔ابتداء میں صرف ایک طالبہ نے ہوٹل میں قیام کیا۔یہ طالبہ محترمہ قدسیہ صاحبہ بنت محترم چوہدری عبدالحمید صاحب تھیں۔انہوں نے یقینا قربانی کر کے اپنی لڑکی کو اس وقت ہوٹل میں داخل کیا جبکہ ابھی اور کوئی لڑکی نہیں آئی تھی اور ان کو کچھ عرصہ تک تنہائی کی تکلیف اٹھانی پڑی۔بعد ازاں دو طالبات اور بھی آگئیں۔جامعہ نصرت اور ہوٹل جامعہ دینی و دنیوی تعلیم کے مخصوص امتزاج کا حامل ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ طالبات کی تربیت اور کردار کی تشکیل پر پوری توجہ دی جاتی ہے اس لئے نہ صرف مرکز کی بلکہ غیر ممالک کی طالبات علم کے لئے بھی کشش رکھتا ہے۔طالبات کو ایسا پرسکون ماحول مہیا کرتا ہے جس میں وہ مخصوص اسلامی تعلیمی وتربیتی اور روحانی فضا میں حصول علم میں منہمک رہ سکیں۔اگر چہ ابتداء