تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 235 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 235

235 ایک طالبہ سے ہوئیں لیکن اس کے بعد یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔موجودہ تعداد تقریبا نوے ہے۔۱۹۵۹ء میں محترمہ پرنسپل صاحبہ اور طالبات کی سعی سے ٹیوب ویل لگوایا گیا جس سے طالبات کو ہر وقت پانی بہم پہنچانے کی سہولت مہیا کی گئی۔زیادہ طالبات داخل ہونے کی وجہ سے غسل خانہ کی قلت محسوس ہونے لگی تو اپنی مدد آپ کے اصول کے ماتحت چار نسل خانے تعمیر کئے گئے۔اسی طرح ایک باورچی خانہ چھپر ڈال کر بنوایا گی۔۱۹۶۵ء میں یوگنڈا، کینیا اور نجی سے تین طالبات نے ہوسٹل میں داخلہ لیا۔۱۹۶۸ء میں بارہ غیر ملکی طالبات داخل ہوئیں جن میں سے دو انڈونیشیا اور باقی مشرقی افریقہ سے تعلق رکھتی تھیں۔اسی سال ایم۔اے عربی کی ایک طالبہ بھی ہوٹل میں قیام پذیر ہوئی۔اب ایم۔اے کی طالبات کے لئے دو کمرے تیار ہو چکے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ :۔ہوسٹل جامعہ نصرت کی سب سے پہلی سپر نٹنڈنٹ محترمہ استانی سردار بیگم صاحبہ تھیں جو مختلف عادات واطوار اور طبائع کی حامل طالبات کی انفرادی نگرانی ، اخلاقی اور دینی تعلیمی وتربیتی اور خاص طور پر نماز با جماعت کی ادائیگی اور نظم وضبط کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے میں پوری سرگرمی اور جد و جہد سے مصروف عمل رہیں۔نماز جمعہ اور رمضان المبارک میں نماز تراویح کے لئے ہوٹل کی تمام طالبات کو مسجد لے کر جاتیں۔ہوٹل میں لجنہ اماءاللہ کا قیام:۔۱۹۵۵ء میں لجنہ اماءاللہ ہوٹل جامعہ نصرت کا قیام عمل میں لایا گیا۔صدر محترمہ پرنسپل صاحبہ (مسز شاہ صاحبہ ) اور سیکرٹری محترمہ استانی سردار بیگم صاحبہ (سپرنٹنڈنٹ ) مقرر ہوئیں۔ان کے ہفتہ وارا جلاس ہوٹل میں منعقد ہوتے جن میں طالبات ادبی اور مذہبی مضامین پڑھ کر سنا تھیں۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی تنظیم کے تحت جو ہدایات موصول ہوتیں ان پر عمل کروایا جا تا۔طالبات ہر سال تحریک جدید اور وقف جدید کا چندہ با قاعدگی سے ادا کرتیں۔۱۹۶۸ء میں محترمہ استانی سردار بیگم صاحبہ کے ریٹائر ہونے پر محتر مہ محمودہ قریشی صاحبہ لیکچرار جامعہ نصرت نے نہایت خوش اسلوبی سے اس فریضہ کو سرانجام دیا۔آپ کے بعد ۱۹۶۹ء سے محترمہ نعیمہ بیگم صاحبہ سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئیں۔