تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 52 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 52

52 42 انڈونیشیا، زیب النساء صاحبہ بنت محترم حافظ عبدالعلی صاحب ، محترمہ صفیہ صاحبہ بنت محترم بھائی محمود احمد صاحب، محترمہ امته المنان صاحبہ بنت محترم منشی محمد الدین صاحب رہیں۔سیکرٹری مال محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم پیر عبد الحق صاحب وکیل اور محصلہ محترمہ اللہ رکھی صاحبہ ہیں۔اس لجنہ نے بھی ہمیشہ مرکز سے تعاون کیا اور اس کا شمار با قاعدگی سے کام کرنے والی لجنات میں ہے۔گوجرانوالہ: ۱۹۲۹ء سے لجنہ قائم تھی مگر پارٹیشن کے بعد مہاجرات قادیان کے ذریعہ اسے نئی زندگی ملی۔محترمہ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ محترم با بو کبر علی صاحب مرحوم صدر اور محتر مہ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم انعام اللہ صاحب جنرل سیکرٹری نیز محترمہ عنایت بیگم صاحبہ اہلیہ محترم با بومحمد بشیر صاحب چغتائی سیکرٹری مال منتخب ہوئیں۔بعد ازاں محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیخ مختار نبی صاحب صدر اور ان کی بیٹی محترمہ امته الرفیق صاحبہ جنرل سیکرٹری کے فرائض ادا کرتی رہیں۔اور محترمہ عنایت بیگم صاحبہ بدستور سیکرٹری مال رہیں نیز آپ کو جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ان کے زمانہ میں محترمه استانی میمونه صوفیہ صاحبہ نے تمام ضلع کا دورہ کیا۔راہوالی۔گکھڑ منڈی۔ترگڑی گجو چک تلونڈی کھجور والی میں نئی لجنات قائم ہوئیں۔محترمہ جمیلہ صاحبہ بنت محترم مولوی محمد حسین صاحب محله دارالرحمت قادیان میں آپ نے سیکرٹری مال کی حیثیت سے کام کیا ) اور محترمہ عنایت بیگم صاحبہ نے فیروز والا اور حافظ آباد میں لبنات قائم کیں۔سیٹیلائیٹ ٹاؤن میں بھی لجنہ قائم ہوئی۔یہ لجنہ بھی خاص لجنات میں سے ہے جو مرکز کے ساتھ پورا تعاون کرتی ہے۔محترمہ سردار بیگم صاحبہ اور محترمہ عنایت بیگم صاحبہ کو بیس سال کے طویل عرصہ تک مسلسل قابل قدر کام کرنے کا موقع ملا۔کوئٹہ: تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد اول ( صف ۳۳۷) میں یہ درج ہے کہ کوئٹہ میں لجنہ اماء اللہ کا قیام ۱۹۳۴ء میں عمل میں آیا مگر مزید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے اس سے بہت عرصہ قبل ۱۹۲۷ء میں وہاں لجنہ قائم ہو چکی تھی۔جبکہ محترمہ جنت خاتون صاحبہ اہلیہ محترم بابو محمد امیر صاحب فیروز پور سے (جہاں لجنہ ۱۹۲۳ء میں قائم ہو چکی تھی ) وہاں پہنچی تھیں اور وہی صدر منتخب ہوئی تھیں اور ان کی دختر محترمہ