تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 53 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 53

53 65 استانی امتہ العزیز عائشہ صاحبہ سیکرٹری مقرر ہوئیں۔۱۹۳۵ء کے زلزلہ عظیمہ کی وجہ سے وہاں پر کام بند ہو گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد اس کا احیاء ہوا۔۱۹۴۷ء میں بہت سے مہاجرین وہاں پہنچ گئے اور ممبرات کی تعداد یک صد کے قریب ہو گئی۔آبادی کے لحاظ سے دو حلقے کرنے پڑے۔۱۹۵۴ء میں تعداد ممبرات ۲۵۰ ہوگئی۔مندرجہ ذیل عہدیداران کو خدمت کا موقع ملا۔ا۔حلقہ اسلام آباد (کوئٹہ): محتر مہ اماں ملتان جیواں بی بی صاحبہ اہلیہ محترم شیخ عبدالعزیز صاحب ملتانی تقسیم ملک سے پہلے بھی وہیں مقیم تھیں اور بڑے شوق اور محنت کے ساتھ لجنہ کی ہر تحریک کے مطابق تعلیم وتربیت اور تبلیغ کا کام کرتی رہیں۔باوجود نا خواندہ ہونے کے بہت سرگرم عہد یدار تھیں۔۱۹۴۸ء کے لئے انتخاب میں بھی آپ صدر بنیں اور محترمہ ذکیہ خانم صاحبہ سیکرٹری مقرر ہوئیں۔۱۹۵۶ء میں صدر محترمہ زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم خلیفہ عبدالرحمن صاحب منتخب ہوئیں مگر سیکرٹری محترمہ ذکیہ خانم صاحبہ ہی رہیں۔حلقہ مسجد احمدیہ ( کوئٹہ ): ۲۷۔جون ۱۹۴۸ء کو یہ نیا حلقہ قائم ہوا اور اس کا پہلا اجلاس ہوا۔صدر محترمہ مبشرہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولوی عبدالسلام صاحب عمر ، نائب صدر محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب اور سیکرٹری محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب مقرر ہوئیں۔سیکرٹری تعلیم و تربیت محتر مہ افتخار بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیخ ضیاء الحق صاحب تھیں۔۱۹۴۹ء میں محترمہ حمیدہ عارفہ صاحبہ اہلیہ محترم مرزا معظم بیگ صاحب صدر مقرر ہوئیں۔آپ ۱۹۶۶ء تک یہ فرائض سرانجام دیتی رہیں۔آپ کے ساتھ سیکرٹری صاحبہ کے فرائض محترمہ نصرت صاحبہ بنت محترم میاں بشیر احمد صاحب ، محترمہ ممتاز عصمت صاحبہ اہلیہ محترم عبدالخالق صاحب، محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب، محترمہ محمودہ لطیف صاحبہ اور محترمہ امتہ الحفیظ خانم صاحبہ ادا کرتی رہیں۔۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۰ء تک محترمہ امتہ الرشید فاطمہ صاحبہ اہلیہ محترم بشیر احمد صاحب سکھری سیکرٹری