تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 552 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 552

552 اور امنگ سے ابھرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بہترین رنگ میں خدمت اور قربانیوں کی توفیق بخشے اور ہم سب کو اپنی رضا کی راہوں پر چلا کر ہم سے ہمارا پیارا اللہ راضی ہو جائے۔آمین اپنی طرف سے صرف یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ ابتدائی کارکنات کے بعض دفعہ صرف نام لکھے ہیں۔میرے جیسی بعد میں احمدیت میں داخل ہونے والی بہنیں اگر ان کے تفصیلی حالات جان سکیں تو ان کے اصلی مرتبہ اور مقام کو سمجھنے میں آسانی ہو یعنی وہ کن کی بیٹی یا جماعت کے کس بزرگ سے ان کا تعلق کس طرح کا تھا۔اگر صاحبزادی بھی لکھا جائے تو بھی مجھے ان کے متعلق صحیح علم نہیں ہوسکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کونسی ہوتی یا نواسی ہیں۔امید ہے کہ آپ از راہ شفقت میری اس حقیر رائے سے بُرا نہیں مانیں گی۔جزاکم اللہ -۴ محترمه استانی میمونہ صوفیه صاحبه ربوہ:- آپ نے تاریخ لجنہ اماء اللہ لکھ کر جماعت احمدیہ کی مستورات کو زندۂ جاوید بنا دیا ہے۔لہذا الله بفرمان آقائے دو جہاں سرور کونین حضرت خاتم المرسلین علی من لا يشكر الناس لا يشكر الله جنتا بھی ہم آپ کا شکریہ ادا کریں کم ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں جہانوں میں جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کتاب تاریخ کو آئندہ لکھی جانے والی کتب تواریخ کا پیش خیمہ بنائے اور آپ کو ہمیشہ ہی ایسے کارناموں سے نوازتار ہے۔آمین اھم آمین سے -۵- محتر مہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ ربوہ:۔الله 66 تاریخ عالم گواہ ہے کہ قبل از اسلام عورت کی مظلومیت ایک ضرب المثل بن چکی تھی۔سب سے پہلے اسلام نے عورت کے حقوق قائم کئے اور بحیثیت انسان اسے مرد کے برابر درجہ دیا۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کا نمونہ اس بارہ میں مثالی تھا۔لیکن کچھ عرصہ بعد پھر عجمیت کا رنگ غالب آ گیا اور عورت کو اس کے اہم فرائض اور حقوق سے ایک گونہ محروم کر دیا گیا۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں جو آغاز اسلام کی اقدار ثمینہ کو پھر سے تازہ کرنے کا دور ہے عورت کو دوبارہ اپنے جوہر دکھانے اور میدان عمل میں کا رہائے نمایاں سرانجام دینے کے مواقع مہیا کئے گئے۔له مصباح اکتو برای ۱۹ ء صفحه ۲۲ کے مصباح جون ۱۹۷۱ء صفحه ۱۰