تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 355 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 355

355 حضور نے فرمایا:۔دو تعلیم سے میری مراد مروجہ درسی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ قرآن مجید ار معمولی لکھنا پڑھنا اسے آتا ہو۔چونکہ دین کا تمام ضروری علم اردو میں موجود ہے اس لئے اگر ہم اردو لکھنی پڑھنی سکھا دیں تو مزید دینی تعلیم بڑی آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔عورتوں کواتنی تعلیم دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ پڑھی لکھی عورتیں تمام کی تمام یہ عہد کر لیں کہ ہم نے اپنے وطن واپس جا کر کم از کم ایک یا دو نا خواندہ عورتوں کو ضرور تعلیم دینی ہے۔۔۔۔۔زائد آمد پیدا کرنے کی تحریک :۔تیسری تحریک میں عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی یہ کرنی چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے کاروبار، ملازمت اور روزگار کے کام کے علاوہ اپنے ہاتھ سے کچھ زائد آمد پیدا کرنے کی کوشش کرے یہ زائد آمدنی اگر غریب ہو تو اس کا ایک حصہ اور امیر ہونے کی صورت میں ساری کی ساری سلسلہ کو بطور چندہ پیش کر دے۔عورتیں سوت کات کر یا پراندے اور آزار بند تیار کر کے میری اس تحریک پر عمل کر سکتی ہیں۔غرض میں چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس تحریک پر عمل کرے اور اپنے ہاتھ سے کام کر کے کچھ آمد پیدا کرنے اور پھر اسے چندہ میں دینے کی کوشش کرے۔لجنہ اماءاللہ کی مجلس شوری:۔۱۲۷ دسمبر ۱۹۵۳ء کو لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی آٹھویں مجلس شوری زنانہ جلسہ گاہ کی سٹیج پر منعقد ہوئی۔صدارت کے فرائض سیدہ رفعت جہاں صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ سیالکوٹ نے سرانجام دیئے۔مندرجہ ذیل ۳۴ لجنات کی نمائندوں نے اس میں شرکت کی۔ا۔ربوہ ۲۔سیالکوٹ ۳۔کراچی ۴۔کوئٹہ ۵۔راولپنڈی ۶۔تہال ۷۔ملتان چھاؤنی لمصل ل الازهار لذوات الخمار صفحه ۱۴۷ و ۴۹ اوا سح ۵/ جنوری ۱۹۵۴ء صفحه ۳٫۲