تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 354
354 جرمن زبان میں ترجمہ قرآن کریم :۔پہلی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ میں نے احمدی خواتین کو تحریک کی تھی کہ وہ جرمن زبان میں ترجمہ شائع کرنے کے لئے اخراجات اپنے ذمہ لیں تا کہ ان کے چندے سے یہ ترجمہ شائع ہو۔اس سے پہلے عورتوں کے چندہ سے لندن میں ہم نے مسجد تعمیر کی تھی۔اب یہ دوسرا کام ان کے ذمہ لگایا گیا۔سو میں ان کی اطلاع کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ جرمن زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو چکا ہے۔اس پر نظر ثانی بھی ہو چکی ہے اور اب وہ پریس میں جاچکا ہے۔امید ہے کہ شائد تین چار ماہ تک یہ شائع ہو جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔! تعلیم کی اہمیت:۔دوسری بات جو میں عورتوں کو کہنا چاہتا ہوں وہ تعلیم کے متعلق ہے۔قادیان میں بھی اور اب یہاں ربوہ میں بھی احمدی عورتوں کی تعلیم مردوں سے ہمیشہ زیادہ رہی ہے بلکہ قادیان میں تو کئی دفعہ ہم نے اردو کی ابتدائی تعلیم کے لحاظ سے عورتوں کو سو فیصدی پڑھا دیا تھا جبکہ مردوں کی تعلیم کبھی ۸۰ فیصدی سے زیادہ نہیں ہوئی۔گویا احمدی عورتیں احمدی مردوں سے تعلیم میں بیس فیصدی زیادہ رہی ہیں۔بلکہ پاکستان میں مردوں کی تعلیم پندرہ فیصدی اور عورتوں کی تعلیم ساڑھے سات فیصدی ہے۔یہاں ربوہ میں بھی عورتیں اس میدان میں مردوں سے بہت آگے ہیں۔لیکن ہماری باہر کی جماعتوں میں یہ حالت نہیں۔بلکہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میں بعض ایسے احمدی گھرانوں کو بھی جانتا ہوں جو تین پشتوں سے احمدی ہیں مگر ان کی بعض عورتوں کو سورۃ فاتحہ تک نہیں آتی۔پس محض ربوہ کی تعلیمی ترقی سے کچھ نہیں بنتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری ساری کی ساری عورتیں دین سے واقف ہوں اور یہ کام ایسا ہے کہ جو بغیر ایک سکیم کے کبھی نہیں ہوسکتا۔“ ا چنانچہ ۱۹۵۴ء میں جرمن زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا اور ۱۹۵۹ء میں دوسرا