تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 344
344 وو " آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ جو کام بھی آپ کے سپرد ہوتا اُسے حد درجہ محنت اور انہماک کے ساتھ کرتیں اور کرواتیں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتیں جب تک وہ کام تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔کام ادھورا چھوڑنے کو سخت نا پسند فرماتیں۔۱۹۴۵ء میں الیکشن کے ہنگامی کام کے موقع پر باوجود ناسازی، طبع کے آپ بیس بیس گھنٹے متواتر کام کرتی رہیں۔ہر کارکن آپ کے رعب اور وقار کی وجہ سے پہلے پہل آپ کے ساتھ کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھی۔لیکن ان میں سے جو بھی تندہی ، جانفشانی اور محنت سے کام کرتی۔وہ آپ کی محبت ، شفقت، بے تکلفی ، ہمدردی اور دعاؤں کا مورد ہوتی۔یہ آپ ہی کی شبانہ روز محنت اور حسن انتظام کا نتیجہ تھا کہ الیکشن کے سلسلہ میں حضرت امیر المومنین نے مستورات کے کام پر خاص طور پر اظہار خوشنودی فرمایا۔الحمد للہ محنت ، استقلال اور حسن انتظام:۔تقسیم ہند کے بعد رتن باغ لاہور میں پہلے سے بھی زیادہ آپ کے پاس رہنے کا موقع ملا۔عورتوں سے تعلق رکھنے والے اکثر ہنگامی اور اہم کام آپ کے سپرد ہی ہوتے تھے۔آپ ان کاموں کو بڑی محنت، جانفشانی اور احسن طریق سے سرانجام دیتیں۔کارکنوں سے بہتر سے بہتر رنگ میں اور زیادہ سے زیادہ کام لینے پر قادر تھیں۔باوجود کمزوری ، صحت کے کام کے وقت محنت ، انہماک ، استقلال اور حسن انتظام کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتیں۔ہر کام میں سبقت فرماتیں۔پھٹے پرانے میلے کمبلوں اور کپڑوں کو قومی ضرورت کی خاطر اپنے ہاتھ سے پیوند لگا تیں اور جب تک ہر کام مکمل نہ ہو جاتا آرام کی نیند نہ سوتیں۔آپ مستورات میں قرونِ اولیٰ کی صحابیات کا سارنگ پیدا کر دینے کی خواہاں ہوتیں۔غرباء، بیوگان اور یتامی کی دلجوئی اور حاجت روائی کرنا اپنے مرحوم جلیل القدر شوہر کی طرح آپ کو بھی بہت محبوب تھا۔لجنہ اماءاللہ کے اجلاسوں میں تاکیداً فرما تیں کہ ہر وقت غرباء کی فہرست اپنے پاس رکھا کرو۔تا کہ اگر کسی وقت غرباء کو کچھ دینے کا موقع ہو تو فور دے دیا جائے۔اپریل ۱۹۴۹ء میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ ربوہ میں منعقد ہوا اور عورتوں کے لئے رہائش کا انتظام کرنا ایک بہت بڑا کٹھن ، وسیع اور نازک کام تھا۔ناظمہ جلسہ سالانہ آپ کو بنایا گیا تھا۔