تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 345
345 میرے اور محترمہ سیدہ بشری بیگم صاحبہ کے ذمہ نائب ناظمہ کا کام تھا۔اس کام کے علاوہ جلسہ سالانہ سے صرف دو دن قبل حضرت امیر المومنین نے ارشاد فرمایا کہ رتن باغ میں رہنے والی تمام مستورات (جن میں درویشوں اور بعض کارکنوں کی بیویوں کے علاوہ بیوگان بھی شامل تھیں ) ربوہ مستقل رہائش کے لئے چلی جائیں۔فوری طور پر ان مستورات کو انتظام کے ماتحت لے جانا اور ان کے قیام کا انتظام کرنا بھی ایک بھاری کام تھا۔مستورات کا قافلہ چالیس کے قریب خاندانوں پر مشتمل تھا جس کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب تھی۔حضرت ممانی جان اس قافلہ کو لے کر لاہور سے ربوہ تشریف لائیں۔رات کو جب گاڑی ربوہ پہنچی تو حضرت امیر المومنین اسٹیشن پر تشریف فرما تھے۔حضور نے ہر عورت کا سامان جائے قیام تک خدام کے ذریعہ بھجوانے کا انتظام فرمایا۔میرے پاس مستورات کی فہرست اور ان کے سامان کی لسٹ تھی۔میں نے دیکھا کہ حضرت ممانی جان اس وقت تک سٹیشن پر تشریف فرمار ہیں جب تک کہ تمام عورتوں کو ان کے سامنے بھجوا نہیں دیا گیا اور پھر آپ نے باوجود سفر کی کوفت کے آرام نہیں فرمایا۔مستورات کو کھانا کھلایا اور ہر قسم کی ضرورت کی چیزوں کا آپ انتظام فرماتی رہیں۔جلسہ سالانہ کی قیام گاہ میں باوجود شدت گرمی کے سارا دن اور رات کام کرتیں۔ہم ان کی نسبت چوتھائی کام کر کے تھک جائیں۔لیکن باوجود کمزوری، صحت وہ کبھی کسی وقت بھی ست نظر نہ آتیں۔ہر مہمان عورت تک خود پہنچ کر دریافت فرمانے کی کوشش کرتیں کہ کسی قسم کی تکلیف تو نہیں ہے؟ مردوں کو ساتھ لے کر انتظام کیا۔ہر نقص کو دور کرواتیں۔کہیں روشنی کے گیس لگوا رہی ہیں تو کہیں پانی کا انتظام کروا رہی ہیں۔اور کہیں روٹیوں اور دیگوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔رات کے چاہے دوبج جائیں جب تک صحیح طریق سے ہر کام ختم نہ ہو جائے اور ہر کارکن اپنی رپورٹ سنا کر اگلے دن کے لئے ہدایات نہ لے لے آپ آرام نہ فرماتیں۔علم وفضل:۔آپ کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ قرآن مجید، احادیث اور دینیات کے علم کے لحاظ سے بھی نہایت بلند پایہ رکھتی تھیں۔مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ جماعت احمدیہ کے کئی علماء نازک دینی مسائل کو سمجھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔جس