تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 309
309 ۱۹۴۴ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے تعلیم الاسلام کالج کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک فرمائی۔حضرت اُم المومنین نے پانچ سو روپیہ اس مد میں چندہ دیا لے نظارت ضیافت قادیان نے جلسہ سالانہ کے لئے دیگوں کی تحریک کی۔حضرت اُم المومنین نے ایک دیگ اپنی طرف سے اور ایک دیگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے جلسہ سالانہ کے لئے نظارت ضیافت کو دی ہے حضرت ام المومنین بحیثیت ممبر لجنہ اماءاللہ :- حضرت اُم المومنین الجنہ اماء اللہ کی مربی تھیں اور ابتدائی چودہ ممبرات میں سے سب سے پہلا نمبر آپ کا تھا۔لجنہ اماءاللہ کے بنیادی مقاصد ابتدائی تحریک پر سب سے پہلے آپ کے دستخط ہیں۔رساله احمدی خاتون سلسله الجدید جلد نمبر اص ۶ پر آپ کا نام یوں شائع ہوا۔(۱) ( حضرت اُم المومنین ) ام محمود نصرت جہاں بیگم۔سب سے پہلا اجلاس آپ ہی کی زیر صدارت ہوا۔جس میں صدر اور سیکرٹری کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وقتاً فوقتاً آپ لجنہ اماءاللہ کے اجلاسوں میں شرکت فرما تیں اور مناسب ہدایات سے نواز تیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب جب سات سال یورپ و امریکہ میں خدمت اسلام کے بعد قادیان پہنچے تو لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے آپ کی خدمت میں ایک تہنیت نامہ پیش کیا گیا اس کے آخر میں سب سے پہلے حضرت اُم المومنین کے یوں دستخط ثبت ہیں:۔پریذیڈنٹ لجنہ اماءاللہ ( ام المومنین ) نصرت جہاں بیگم سے قادیان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مدرسۃ البنات جاری ہوا تو حضرت ام المومنین نے کمال مہربانی سے اپنے دونوں جانب کے نچلے دالان گرلز سکول کو مرحمت فرمائے ہے۔۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء کو جب پہلا قافلہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کی قیادت میں ملکانہ کے علاقہ کے لئے روانہ ہوا تو حضرت ام المومنین بھی از راہ شفقت مع چند اور مستورات کے ا الفضل ۱۲ مئی ۱۹۴۴ ء ص ۵ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۳۱۵ و ۳۱۶ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۱۳۵ م الفضل ۱/۸ اپریل ۱۹۱۴ ص ۱