تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 308
308 ام المومنین رضی اللہ عنہا کے پاس رکھواتی تھیں لا ۱۹۲۲ء کا سال مالی لحاظ سے ایک مشکل سال تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے انجمن کا مالی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے چندہ خاص کی تحریک فرمائی اس میں حضرت ام المومنین نے ایک سوروپیہ چندہ دیا ہے قیام لجنہ اماءاللہ کے بعد مستورات کے لئے سب سے پہلی جو مالی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی وہ مسجد بران کی تحریک تھی اس میں حضرت ام المومنین نے پانچ صد روپے ادا کئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت ام المومنین کے چندہ مسجد برلن کے متعلق فرمایا:۔بڑی رقموں میں سے ایک رقم حضرت ام المومنین کی طرف سے پانسو روپے کی تھی ہماری جائیداد کا ایک حصہ فروخت ہوا تھا اس میں سے ان کا حصہ پانسو روپیہ بنتا تھا انہوں نے وہ سب کا سب اس چندہ میں دے دیا۔میں جانتا ہوں کہ ان کے پاس یہی نقد مال تھا۔۳۱ رمئی ۱۹۳۵ء کوکوئٹہ میں ایک لرزہ خیز زلزلہ آیا جس سے بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جماعت احمدیہ کو توجہ دلائی کہ وہ ہر رنگ میں مصیبت زدگان کی مدد کریں۔لجنہ اماءاللہ کے ذریعہ چندہ جمع کرنے کا انتظام کیا گیا۔حضرت ام المومنین نے اس مد میں دوسوروپے چندہ دیا۔خلافت جو بلی فنڈ میں آپ کا چندہ پانچ صد روپے تھا۔۱۹۳۶ء میں ناظر صاحب بیت المال قادیان نے ایک اپیل شائع کی کہ توسیع مہمان خانہ، مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ اور جلسہ سالانہ کے لئے جماعت کے افراد اپنی اپنی ماہوار آمد کا تہائی حصہ دیں۔یہ مبارک کام جو در پیش ہیں ان کا بیشتر فائدہ مستورات کو پہنچے گا اس لئے خواتین جماعت کو اس چندہ میں خصوصیت سے حصہ لینا چائیے۔حضرت ام المومنین نے تعمیر مہمان خانہ اور توسیع مسجد کے لئے دوسو روپے عطا فرمائے۔کے له الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۱۴ء ص ۱ کے تاریخی لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۵۸ ۱۳ حکم ۲۱ فروری ۱۹۲۳ء ص ۷ الحکم ۲۱ فروری ۱۹۲۳ء ص ۷ ۱۵ الفضل ۱۸ جون ۱۹۳۵ء ص ۲ الفضل ۱۵ جون ۱۹۳۸ ص ۶ کے الفضل ۵ استمبر ۱۹۳۶ء ص ۱۰