تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 259 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 259

259 نہ کھاؤ میں نے عارضی طور پر اسے تم سے چھین لیا ہے۔تو باوجود اس کے کہ بہترین نان ہے وہ۔خدا کے ایک بندے اور ایک بندی کا یہ فرض ہے کہ جب اس جائز چیز سے بھی خدا اسے روکے تو وہ رک جائے۔پھر مثلاً پینے کا پانی ہے گو وہ بڑا اچھا پانی ہے۔گلے سے بآسانی اتر جاتا ہے اور میٹھا ہے۔صحت کے لحاظ سے بھی اچھا ہے۔پھر وہ بہترین چشمہ یا بہترین نہر کا پانی لیکن ایک وقت خدا تعالیٰ کہتا ہے میں ساری عمر تمہیں پانی پینے کی اجازت دیتا ہوں لیکن اس وقت میں کہتا ہوں کہ تم یہ پانی نہ پیو تا تمہارے دل میں یہ احساس قائم رہے کہ جب ہم پانی پی رہے تھے اس وقت بھی ہم اپنے کسی حق کی وجہ سے نہیں پی رہے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے پی رہے تھے۔ایک وقت میں خدا کے ایک بزرگ نے ایک فوج کو ایک خاص نہر سے پانی پینے سے منع کر دیا تھا۔اب پانی حرام تو نہیں تھا۔نہ وہ دن ان کے لئے روزوں کے دن تھے لیکن ان سے ایک امتحان لیا گیا تھا جس میں بعض کامیاب ہوئے اور بعض نا کام ہوئے۔پس اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تمہارے دلوں میں احساس زندہ ہو اور قائم رہے کہ جو جائز کام بھی تم کرتے ہو وہ میری اجازت سے اور میرے منشاء کے ماتحت کرتے ہو اور اسی لئے جب تمہیں بعض چیزوں سے روکا جائے تو تم رک جاتے ہو۔اگر یہ بات پیدا ہو جائے تو پھر تم اس خوشخبری کو بھی سن لو کہ تمہارا انعام میں ہوں اور میں تمہیں مل جاؤں گا۔میرے ساتھ زندہ تعلق قائم ہو جائے گا اور دیدار الہی کی نعمت سے تم حصہ پاؤ گے۔نواں پر چہ اس نصاب کا اپنی عصمت اور عفت کی حفاظت کرنا ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ جتنے بھی حواس اور طاقتیں ہیں ان کو غلط استعمال سے بچائے رکھنا تا انسان اپنے رب کریم کی نگاہ میں ذلیل نہ ٹھہرے۔دسواں پر چہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ہرلمحہ کو یاد الہی میں گزارنا ( یہ ذکر کا پرچہ ہے ) اور ذکر عرفان اور بصیرت سے کرنا علی وجہ البصیرت خدا تعالیٰ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہوئے اور یقین رکھتے ہوئے اس کی تسبیح کرنا اور اسے تمام صفات حسنہ سے متصف یقین کرتے ہوئے اپنے عمل اور قومی سے اس کے احکام کی تعمیل کرنا۔یہ پرچہ مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔آسان اس لئے ہے کہ اس کی وجہ سے انسان دنیوی کاروبار سے رکتا نہیں۔انسان اس دنیوی عارضی زندگی میں بھی بہت سے کام کرتا ہے اور اسے کرنے