تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 260
260 پڑتے ہیں۔ان کاموں کے کرنے کے نتیجہ میں وہ اس زندگی کی ذلت پر مہر لگا تا ہے یا اس ذلت کو دور کر کے وہ اپنی عزت کی زندگی بنالیتا ہے۔بہر حال کئی قسم کے کام ہیں جو اسے کرنے پڑتے ہیں۔یہ کام کرتے ہوئے (الا ماشاء اللہ بعض استثنا بھی ہیں ان استثنائی باتوں کو چھوڑ کر ) آپ ذکر خدا میں مشغول رہ سکتے ہیں۔سوتے وقت بھی اگر بیداری کی انتہاء خدا کی تحمید اور تسبیح پر ہو تو خدا کہتا ہے کہ تمہارا سونا بھی اس رنگ میں شمار ہو جائے گا کہ گویا تم اسی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے سونے کے لمحات کو گزارتے ہو۔غرض چونکہ ذکر الہی اس دنیوی زندگی کے کاموں میں روک نہیں اس لئے یہ بہت زیادہ آسان ہے لیکن یہ دنیا انسان کے دل میں بعض نا معقول ، بعض بے ہودہ ، بعض غلط ، بعض لا یعنی خواہشات اور جذبات پیدا کر دیتی ہے اور انسان ان کے متعلق سوچنے لگ جاتا ہے یا با تیں کرنے لگ جاتا ہے اور بعض باتوں پر بشاشت کا اظہار کرتا ہے اور ذکر الہی سے محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً والی بال ہے یہ ایک کھیل ہے جو تم کھیلتی ہو۔اب والی والی بال کھیلنا صحت کے لئے ضروری ہے اور ورزش ضرور کرنی چاہیئے اور باقاعدگی کے ساتھ روزانہ کرنی چاہیئے۔لیکن والی بال کے میدان میں اگر آپ کوشش کریں تو یہ بھی کر سکتی ہیں کہ بال کو ہاتھ لگاتے وقت بھی آپ سبحان اللہ کہیں۔اگر آپ اس طرح کریں تو بال اسی طرف جائے گا جس طرف آپ پھینکنا چاہتی ہیں۔آپ سروس کرتے وقت سبحان اللہ کہہ کر بال پھینکیں تو بال کی اڑان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن آپ کے ثواب میں بڑا فرق پڑ جائے گا۔پھر بال کو رسیو(RECEIVE) کرتے ہوئے بھی آپ ذکر الہی میں مشغول رہ سکتی ہیں نیز کھیل کے بعد اگر آپ ( جیسا کہ بعض کو یہ عادت ہوتی ہے اور میرا خود مشاہدہ ہے ) عصر اور مغرب کے درمیان جو کھیل کھیلی گئی تھی اس کے متعلق باتیں کرتی رہیں تو آپ اپنے ثواب کو ضائع کر لیں گی۔اس قسم کے جذبات اور شوق اور خیالات ذکر الہی میں مخل ہو جاتے ہیں اس لحاظ سے پرچہ بڑا مشکل ہے لیکن جو شخص اس دنیا میں اپنے توازن کو قائم رکھتا ہے اس کے لئے یہ مشکل نہیں بڑا آسان ہے اور مفت کے ثواب کے حصول کا طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا تم بے شک کام کرتے رہو گر مجھے نہ بھولنا اس کا میں تمہیں ثواب بھی دوں گا۔پس یہ دس پرچے ہیں جن میں پاس ہونے کے لئے انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی یا دوسری یو نیورسٹیوں کی طرح نتیجہ کمزور جوابات