تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 258 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 258

258 پھر صبر سے کام لینے میں ہی یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شیطانی حملوں کا شجاعت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔اور اس میں یہ بات بھی آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آزمائش کی خاطر اور امتحان کے لئے مصائب نازل کرے تو اس وقت جزع فزع نہ کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا۔چھٹا پرچہ ہے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا۔یہ بھی بڑا اہم پرچہ ہے دیکھیں تو سارے ہی پرچے بڑے اہم ہیں) یعنی رفت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کے انکسار اور ایک قسم کی خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدائے عز وجل کی طرف دل کو لگانا۔یعنی عاجزی خالی نہیں بلکہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا۔ایک شخص جو صرف عاجزی اختیار کرتا ہے وہ عاجز آجاتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے لیکن کوشش اور تدبیر پوری کرنا اور پھر یہ سمجھنا کہ میرے اندر کوئی طاقت نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہواس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔یونیورسٹی کا کوئی امتحان ہو یا دنیا کی کوئی اور کوشش ہو۔ساتواں پرچہ ہے حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا اور رب کی خاطر صدقہ وخیرات کی طرف توجہ دینا۔آٹھواں پرچہ ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جائز چیزوں سے بھی رکے رہنا۔یعنی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے استعمال کرنے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے وہ مباح ہیں حلال ہیں۔لیکن بعض مواقع پر بعض کے لئے ( گو وہ طیب چیزیں ہیں اور عام حالات میں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وہ میں نے آپ کے لئے حلال قرار دی ہیں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم انہیں استعمال نہ کرو یہ بتانے کے لئے اور یہ احساس پیدا کرنے کے لئے کہ تم نے حلال چیزوں کو بھی استعمال کرنا ہے تو کسی حق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں۔مثلاً میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ بہترین گندم کا پکا ہوا نان ہے لیکن تم یہ نہ کھاؤ۔حالانکہ بہترین گندم کا پکا ہوا نان ہر وقت کھانا جائز ہے۔لیکن ایک وقت میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گو یہ نان جس گندم سے پکا ہے وہ گندم کی قسموں میں سے بہترین قسم ہے پھر یہ مشین میں پسے ہوئے آٹا کا بنا ہے اور وہ آٹا آٹے کے لحاظ سے بہترین ہے۔پھر جن ہاتھوں نے اس آٹا کو گوندھا ہے وہ بہترین ہاتھ ہیں اور ان ہاتھوں نے دعائیں کرتے ہوئے آٹا گوندھا ہے۔پھر یہ نان اس لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے کہ جن ہاتھوں نے اسے پکایا ہے انہوں نے خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اس کو پکایا ہے۔غرض اس میں ساری خوبیاں ہیں لیکن میرا حکم ہے کہ اسے