تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 242
242 پرنسپل ہے۔وہ عربی میں ایم۔اے ہے اور وہ اس کام کا کچھ معاوضہ نہیں لیتی لیکن وہ خود بھی پردہ کرتی ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں رہتی ہیں۔اگر ضرورت کے موقع پر کالج میں بعض مرد تعلیم کے لئے لگائے جاتے تو وہ بھی پردہ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھاتے ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کے بائیس فیصدی نتائج کے مقابل میں ان کا نتیجہ تریسٹھ فیصدی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی عورتیں پختہ ارادہ اور عزم کر لیں گی تو وہ علم حاصل کرلیں گی اور دنیا کو دکھا دیں گی کہ پردہ میں رہ کر بھی ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔“ عربی میں طلائی تمغہ جات تمغہ جات:۔۱۹۵۵ء میں سعیدہ حبیب بنت حبیب اللہ صاحب ۱۹۵۷ء میں سیدہ امتہ الرفیق بنت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رض ۱۹۵۹ء میں امتۃ الرشید غنی بنت عبد الغنی صاحب قریشی ۱۹۵۹ء میں امتہ الحمید بنت عبدالرحیم صاحب در ولیش ۱۹۶۰ء میں امۃ الرشید لطیف بنت عبداللطیف صاحب ٹھیکیدار ۱۹۶۱ء میں ثریا سلطانہ بنت دلاور علی صاحب ۱۹۶۴ء میں قانتہ شاہدہ ( تین طلائی تمغہ جات ) بنت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم ۱۹۶۵ء میں فیروزہ فائزہ صاحبہ (تین طلائی تمغہ جات ) بنت قاضی عبد الرحمن صاحب جنید ہاشمی ۱۹۶۷ ء میں امتۃ الرفیق قریشی بنت فضل حق صاحب قریشی اس کے علاوہ 1943ء میں فیروزہ فائزہ بنت قاضی عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی نے ایف۔اے میں اول پوزیشن حاصل کر کے طلائی تمغہ حاصل کیا الفضل ۱۹ راگست ۱۹۵۵ء ص ۴ کالم ۲-۳