تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 243
243 ۱۹۶۴ء میں امتہ الواحد بنت مرزا واحد حسین گیانی مرحوم نے جغرافیہ میں نقرئی تمغہ حاصل کیا۔۱۹۶۵ء میں فیروزہ فائزہ بنت قاضی عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی نے انگریزی میں دو طلائی تمغہ جات حاصل کئے ۱۹۷ء کے بعد یونیورسٹی کی کانووکیشن نہ ہونے کہ وجہ سے علم نہیں ہوسکا کہ کسی طالبہ نے کوئی تمغہ حاصل کیا یا نہیں۔یونیورسٹی اور بورڈ میں اول آنے والی طالبات:۔جامعہ نصرت کی طالبات صرف ان مخصوص مضامین میں ہی اچھی پوزیشن حاصل نہیں کرتی رہیں بلکہ بورڈ اور یو نیورسٹی کے امتحانات میں بھی اول آتی رہیں۔تفصیل درج ذیل ہے۔۱۹۵۸ء میں صالحہ یعقوب بنت مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم ( زود نویس ) لا ہور بورڈ میں اول 1943ء میں فیروزہ فائزہ بنت قاضی عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی ایف۔اے میں بورڈ میں اول ۱۹۶۴ء میں قانتہ شاہدہ بنت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم بی۔اے میں یونیورسٹی میں اول ۱۹۶۵ء میں فیروزہ فائزہ بنت قاضی عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی بی۔اے میں یو نیورسٹی میں اول کالج یونین :- طالبات کو اپنے متعلقہ مضامین سے پوری واقفیت و دلچسپی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کے نفاذ کا علم مجوزہ کتابوں سے ہی نہیں بلکہ ان مجالس کی مساعی سے بھی ہوتا ہے جو ہر مضمون سے متعلق قائم کی جاتی ہیں۔ان مجالس میں سے اہم ترین مجلس کالج یونین ہے۔اس میں طالبات علمی وادبی، مزاحیہ اور تنقیدی مضامین اردو اور انگریزی میں پڑھتی ہیں۔تقریری مقابلہ جات بھی وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ہر سال بین الجامعی مباحثے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔ٹرافی:۔۱۹۶۱ء میں گورنمنٹ کالج لائل پور سے انگریزی تقریری مقابلہ میں ٹرافی حاصل کی۔۱۹۷۰ء میں گورنمنٹ کالج ملتان سے انگریزی کی ٹرافی اور گورنمنٹ کالج کیمبل پور سے اردو