تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 229 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 229

229 بھی دنیا سے سے الگ نہیں ہو سکتی اور دنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے۔پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے۔دونوں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ جولڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دنیا کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔اور جولڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ کہ وہ دین کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا عہ ہے۔پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا۔جو دینی خدمت کی طرف جانے والی ہیں انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔دین کے معنے صرف سبحان اللہ سبحان اللہ کرنے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور ان کے دکھ درد کو دور کرنے میں حصہ لینے کے بھی ہیں۔اور جولڑ کیاں دنیا کا کام کرنا چاہتی ہیں انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کی محبت پر بھی زور دیا ہے۔پس انہیں دنیوی کاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اس کی محبت اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے چلے جانا چاہیئے۔اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں در حقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اس لئے جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا ہو گیا۔پس یہ مقصد جو تمہارے سامنے ہوگا اور اس مقصد کے لئے تمہیں دینی روح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کا لج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالی کو بھلا کر دنیوی کاموں میں ہی منہمک ہو جائیں۔مگر چونکہ یہ کالج احمد یہ کالج ہے اس لئے تمہارا فرض ہوگا کہ تم دونوں دامنوں کو مضبوطی سے پکڑے رہوا گر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چھٹ جاتا ہے تو تم اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتیں جو تمہارے سامنے رکھا گیا اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے پس ان ہدایات کے ساتھ میں احمدیہ زنانہ کالج کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جو اس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اس بات کو مدنظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ