تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 228
228 جائے تا کہ بیرونجات سے لڑکیاں آئیں اور وہ قادیان میں رہ کر انگریزی تعلیم حاصل کریں۔اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا جاتا رہا کہ لڑکیوں کے لئے کالج کھولنے کی اجازت دی جائے مگر میں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی لیکن آج میں ہی زنانہ کالج کا افتتاح کر رہا ہوں۔یہ تیسری قسم کی چیز ہے نہ میں زمانہ کے ساتھ بدلا نہ زمانہ میرے ساتھ بدلا بلکہ خدا تعالیٰ نے زمانہ میں ایسی خوشگوار تبدیلی پیدا کر دی کہ اب تعلیم کو اسلامی طریق کے ماتحت ہم کالج میں رائج کر سکتے ہیں۔یہ کہ اس تعلیم کی آئندہ کیا تفصیلات ہوں گی اس کو جانے دو۔لیکن یہ کتنا خوشگوار احساس ہے کہ پاکستان بننے کے بعد یونیورسٹی کے مضامین میں ایک مضمون ”اسلامیات کا بھی رکھا گیا ہے جس میں اسلامی تاریخ پر خاص طور پر زور دیا جائے گا۔پس ہم زمانہ کے ساتھ نہیں بدلے زمانہ بھی ہمارے ساتھ نہیں بدلا۔کیونکہ جو زور ہمارے نزدیک اسلامی تعلیم پر ہونا چاہیئے وہ ابھی نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے زمانہ کوسمو دیا ہے اور اسے کچھ ہمارے مطابق کر دیا ہے اور کچھ ابھی ہمارے مطابق نہیں۔پس ان بدلے ہوئے حالات کے مطابق جبکہ ہم سہولت کے ساتھ کالج میں بھی دینیات کی تعلیم دے سکتے ہیں۔میں نے فیصلہ کیا کہ دینیات کلاسز کواڑ دیا جائے اور اس کالج میں لڑکیوں کو زائد دینی تعلیم دی جائے تاکہ وہ کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی اعلیٰ درجہ کی معلومات حاصل کر لیں اور اسلام پر ان کی نظر وسیع ہو جائے۔عیسائی حکومت جو تعلیم میں پہلے دخل دیا کرتی تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔پس میں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں کالج قائم کر دینا چاہیئے تا کہ ہماری لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں جو اعلی تعلیم یافتہ عورتیں ہیں اُن کی برابری کرسکیں۔“ زنانہ کالج کے قیام کی اغراض :- حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جامعہ نصرت کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔یہ کالج میں نے اس لئے کھولا ہے کہ اب دین اور دنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہوسکتی ہے اس لئے مشترک کر دیا جائے۔اس کالج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہو سکتی ہیں کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد د نیوی کام کریں او کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کریں۔میں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت