تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 230 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 230

230 طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے جو ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بے قرار اور مضطرب رکھے۔جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ٹکتا۔بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے۔اسی طرح تمہارے اندر وہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہیے جو اس وقت تک تمہیں چین نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور اسلام کی حقیقی روح کو دنیا میں قائم نہ کر دو۔اسی طرح پروفیسروں کے اندر بھی یہ جذبہ ہونا چاہیئے کہ وہ صیح طور پر تعلیم دیں، اخلاق فاضلہ سکھا ئیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔“ اپنے خطاب کے آخر میں حضور نے فرمایا:۔ان ریمارکس اور نصیحتوں کے ساتھ میں اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوا اس کا لج کا افتتاح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے زنانہ کالج کی اس چھوٹی سی بنیاد کو اپنی عظیم الشان برکتوں سے نوازے اور یہ چھوٹا سا ادارہ دنیا کے تمام علمی اداروں پر چھا جائے۔ابتدائی طالبات جامعہ نصرت :۔پہلے سال سولہ طالبات نے جامعہ نصرت میں داخلہ لیا جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں :۔۱۔حضرت سیدہ بشری بیگم صاحبہ (مہر آپا) حرم حضرت خلیفہ المسح الثانی ۲۔سیدہ امتہ القدوس بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب۔امتہ المجید صاحبہ بنت مکرم عبدالرحمن صاحب (حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے بھتیجے ) ۴۔امۃ الرشید قمر صاحبہ بنت مکرم عبدالرحیم صاحب در ویش قادیان ۵ منظور النساء بنت مكرم محمد اسمعیل صاحب معتبر ۶۔مریم صدیقہ بنت مکرم چوہدری محمد نور الہی صاحب ے۔قدسیہ بیگم صاحبہ بنت مکرم عبدالحمید صاحب ۸۔رقیہ شمیم صاحبہ بنت مکرم محمد الحق صاحب ۹ - صدیقہ خانم صاحبہ بنت مکرم ابوالہاشم خان صاحب ۱۰۔سعیدہ بیگم صاحبہ بنت مکرم حبیب اللہ صاحب لى الازهار لذوات الحمار حصہ دوم ص ۱۱۵ تا ص ۱۲۴ و مصباح جولائی ۱۹۵۱ء ص ۵ تا ص ۲۳