تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 95 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 95

95 ۳۔لجنہ کماسی (مغربی افریقہ ): لجنہ نے خدمتِ خلق کے پروگرام پر عمل کرنا شروع کیا اور ہر ایک نے ہفتہ وار رپورٹ دینی شروع کی۔چار عورتوں نے تقریر کی مشق کرنے کے لئے نام لکھوائے اے سال رواں میں وفات پانے والی مخلص کارکنات : (۱) ۲۹۔ستمبر ۱۹۴۸ء کو محترمہ امتہ العزیز صاحبہ بنت محترم قاضی بشیر احمد صاحب بھٹی جو ایک ہونہار تعلیم یا فتہ نو جوان خاتون اور لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں وفات پاگئیں۔۔مرحومہ حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی کی پوتی تھیں ان کی پھوپھی کا نام بھی امتہ العزیز صاحبہ تھا جن کا ذکر تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول میں آچکا ہے۔(وہ مدرستہ الخواتین کی ہونہار طالبہ تھیں اور دوران تعلیم ہی وفات پا گئیں ) محترم قاضی بشیر احمد صاحب بھٹی کی بیٹی کا اصل نام پہلے سعیدہ تھا مگر چونکہ اپنی مرحومہ پھوپھی سے بہت مشابہت رکھتی تھیں اس کی بناء پر حضرت مصلح موعودؓ نے کئی بارانہیں سعیدہ کی بجائے امتہ العزیز نام سے ہی پکارا جس پر سب ہی اسے امتہ العزیز کہنے لگے۔اس نے بھی اپنا نام اپنی پھوپھی کے نام پر امتہ العزیز رکھ لیا دین سیکھنے کا بہت شوق تھا۔دینیات کلاسز سے علیمہ کا امتحان پاس کیا۔ہجرت کے بعد لاہور میں ان کی شادی ہوئی۔شادی کے معابعد بیمار ہو گئیں اور ۲۹۔ستمبر کو وفات پاگئیں۔لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں قادیان میں حصہ لیتی رہیں اور جب بھی کسی کام کے لئے جنرل سیکرٹری ( حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی ) کو ضرورت ہوتی تو انہیں بلو ابھیجتیں۔اسی وقت آتیں اور ذمہ داری سے جو کام سپر د کیا جاتا اسے سرانجام دیتیں۔(۲) ۱۸-۱۷ نومبر ۱۹۴۸ء کی درمیانی شب سترہ روز کی علالت کے بعد ایک بہت بزرگ اور مخلص خاتون محتر مہ زینب بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت مولوی فضل دین صاحب وفات پاگئیں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی صحابیات میں سے تھیں۔موصیبہ۔عاشق قرآن کریم۔تہجد گزار اور احمدیت سے گہرا اخلاص رکھنے والی تھیں۔سینکڑوں عورتوں اور بچوں کو با تر جمہ قرآن کریم الفضل ۲۴۔جنوری ۱۹۴۸، صفحه ۵ کالم نمبر ۲ الفضل ۱۰۔نومبر ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ ۳ الفضل ۲۳ نومبر ۱۹۴۸ء صفحہ ۶