تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 94
94 تنظیم کی رُوح پیدا ہوئی۔اپنے جاننے پہچانے والوں میں بہن علیا علی بہت عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔آپ کے بعد ST۔LOUIS کی بہن منیرہ احمد صدر بنیں مگر وہ خلاف امید اچھی طرح کام نہ کر سکیں جس کی وجہ ان کی علالت تھی۔وہ ۵۷۔۱۹۵۶ء میں صدرر ہیں۔۱۹۵۷ء کی سالانہ کنونشن کے موقع پر لجنہ کے جلسہ میں مندرجہ ذیل امور کا فیصلہ کیا گیا :۔ا۔لجنہ اماء اللہ کی کوئی رقم کسی ذاتی امانت میں جمع نہیں کروائی جائے گی۔رقم یا تو کسی بینک میں لجنہ کے نام پر جمع کروائی جائے یا مشن میں رکھوائی جائے گی اور اس کا الگ حساب ہو۔۲۔آئندہ کنونشن کے موقع پر ہونے والے نفع بالجنہ کی چیزیں بیچنے سے آمدہ رقم کا 1/4 حصہ اشاعت اسلام کے لئے وقف کیا جائے گا۔۔تمام جمع شدہ چندہ جات کا نصف سیکرٹری مال کو بھجوایا جائے گا۔اُس وقت ۲۵ سینٹ ماہوار چندہ تھا۔۴۔پندرہ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی الگ تنظیم بنائی جائے اور ان کو کسی بڑی خاتون کی نگرانی میں اپنے عہدیداران منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔اس اجلاس کی صدارت ڈیٹن کی بہن امتہ الالہی صاحبہ نے کی۔صدر اور سیکر ٹری تعلیم کے عُہدوں کو اکھٹا کر دیا گیا۔اس طرح سیکرٹری مال اور سوشل سیکرٹری کے عہدوں کو بھی۔بوسٹن کی بہن ذکیہ اشرف صاحبہ کو صدر اور سیکرٹری تعلیم اور امتہ الالہی کوسیکرٹری مال اور سوشل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔بہن ذکیہ اشرف صاحبہ نے بہنوں کو نصیحت کی کہ ہر جگہ جہاں مشن ہے مقامی لجنہ قائم کی جائے۔انہوں نے تنظیم قائم کرنے کے لئے مشنوں سے بذریعہ ڈاک اور دوسرے طریقوں سے رابطہ قائم رکھا انہوں نے بچوں کے لئے مذہبی پروگرام کی شدید ضرورت پر بھی زور دیا اور احمدی نو جوانوں کی بہتری کی خاطر کوششوں کی بھی اپیل کی اور اس کے لئے تمام مشنوں کے صدروں کی مدد مانگی۔اپنی صدارت کے دوران وہ مقامی لجنات سے رپورٹیں منگواتی رہیں اور سینٹ لوئی ، پٹس برگ، ڈیٹن ، ملوا کی اور ڈیٹرائٹ کی لجنات نے رپوٹیں بھجوائیں۔۱۹۵۹ء کی سالانہ کنونشن کے موقع پر محترمہ بہن سعیدہ لطیف صاحبہ کو صدر اور سیکرٹری تعلیم چنا گیا اور محترمہ بہن ذکیہ اشرف صاحبہ کو سیکرٹری مال اور سوشل سیکرٹری بنایا گیا۔