تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 507
507 جنازہ ربوہ روانہ ہوا۔اگلے روز صبح سوا سات بجے حضور نے مقبرہ بہشتی کے میدان میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ کم وبیش چار پانچ ہزار احباب جو ملک کے طول وعرض سے تشریف لائے تھے شامل ہوئے۔جس کے بعد حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کے مزار کے قرب میں جانب غروب آپ کا تابوت سپر د خاک کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جنت الفردوس میں آپ کو بلند درجات عطا فرمائے اور آپ کی اولاد کا خود حافظ و ناصر ہو۔آمین تعزیتی قرار داد: حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کی وفات کے المناک حادثہ پر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مندرجہ ذیل تعزیتی قرارداد پاس کی:۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا یہ غیر معمولی اجلاس حضرت سیدہ ام مرزا ناصر احمد صاحب حرم اول حضرت خلیفتہ اسیح الثانی وصدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی وفات حسرت آیات پر گہرے رنج و غم اور دلی حزن و ملال کا اظہار کرتا ہے۔حضرت سیدہ مرحومہ کا وجود خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان تھا اور آپ کو کئی امتیازی شرف حاصل تھے۔آپ حضرت ام المومنین کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بہو اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی حرم اول تھیں۔حضرت سیدہ مرحومہ بڑی سلجھی ہوئی طبیعت کی مالک ،تقویٰ شعار، باوقار، مخلص اور سلسلہ احمدیہ کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے والی اور اسی طرح لجنہ اماء اللہ کے کاموں اور اجلاسوں میں باوجود آخری عمر میں ناسازی، طبع اور کمزور ہونے کے با قاعدگی کے ساتھ شامل ہوتی تھیں۔تمام روحانی اور جسمانی عزیزوں کے ساتھ محبت و شفقت کا سلوک روا رکھتی تھیں۔نہایت درجہ رنج اس بات کا ہے کہ لجنہ مرکز یہ آپ کے مبارک وجود سے محروم ہوگئی ہے۔حضرت سیدہ مرحومہ کا انتقال ایک جماعتی صدمہ اور قومی نقصان ہے۔ہم ممبرات لجنہ اماءاللہ مرکز یہ تمام خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صاحبزدگان وصاحبزادیوں سے گہری ہمدردی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتی ہیں کہ وہ حضرت سیدہ کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے غمگین اورسوگوار قلوب کو آپ