تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 506
506 تحریک جدید میں شامل تھیں اور پہلے انیس سالہ دور میں آپ کا چند ۲۷۳۲۰ روپے تھا۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر آپ مستورات کے انتظام کی نگرانی فرماتیں اور مہمانوں کے آرام کا خیال رکھتیں۔لجنہ اماء اللہ کے اکثر اجلاس آپ کی صدارت میں ہی منعقد ہوتے۔آپ مفید مشورے دیتیں۔اسی طرح جلسے بھی اکثر آپ ہی کی صدارت میں منعقد ہوا کرتے تھے۔خلافت جو بلی کے موقعہ پر جب صحابیات نے لوائے احمدیت کے لئے سوت کا تا تو آپ نے بھی اس میں حصہ لیا ہے المصلح الموعود حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے ۱۹۵۳ء میں عورتوں کو اپنے ہاتھ کی کمائی سے زائد آمدنی پیدا کرنے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک دوائی بنا کر فروخت کی اور اس کی آمد اشاعت اسلام کی خاطر دی۔حضرت سیدہ ام ناصر کوسب سے بڑا اعزاز یہ حاصل ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں شادی ہو کر دار مسیح موعود میں آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت قریب سے دیکھا۔آپ کی با تیں سنیں اور یاد رکھیں اور آپ سے تربیت حاصل کی۔پھر حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی حرم اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی والدہ ہونے کا فخر بھی آپ کو حاصل ہے۔آپ کی اولاد میں سے محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ نے قادیان میں بھی اور پھر ربوہ میں بھی لجنہ اماءاللہ کی اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔آپ کی دوسری صاحبزادی محترمہ سیدہ امتہ العزیز صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ لاہور کی حیثیت سے دینی خدمات بجالا رہی ہیں۔آپ کے صاحبزدگان میں سے محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل الا علی تحریک جدید، محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب سلسلہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔وفات کے وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ محلہ (جابہ) میں تھے۔مرحومہ کی تشویشناک علالت کی اطلاع پاکر حضور مری تشریف لے گئے۔لیکن حضور کی تشریف آوری سے قبل مرحومہ وفات پاچکی تھیں۔ساڑھے تین بجے دوپہر مری میں حضور نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد تحریک جدید کے پانچیز اری مجاہدین صفحہ ۶ -۲۱ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اوّل صفحه ۴۵۱