تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 504
504 اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کونسا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جا سکتا۔قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نوراللہ مرقدہ نے حضرت سیدہ ام ناصر کی وفات پر جومضمون رقم فرمایا اس میں آپ نے مرحومہ مغفورہ کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ نہایت ملنسار ، سب کے ساتھ بڑی محبت اور کشادہ پیشانی سے ملنے والی در حقیقتاً حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے گھر کی رونق تھیں اور حضرت اُم المومنین کی وفات کے بعد جماعت کی مستورات کا گویا وہی مرکز تھیں۔بہت بے شر طبیعت پائی تھی۔ان کے وجود سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی۔اور ان کا وجود ساری عمر اسی نوع کی معصومیت کا مرکز بنا رہا۔نیکی اور تقویٰ میں بھی مرحومہ کا مقام بہت بلند تھا۔غالبا یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سیدہ ام ناصر کو جو جیب خرچ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا تھا اسے وہ سب کا سب چندہ میں دے دیتی تھیں اور اولین موصوں میں سے بھی تھیں۔۔یہ ان ہی کی نیک تربیت کا اثر تھا کہ ان کی اولا دخدا کے فضل سے نمازوں اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتی ہے۔۔۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی نے آپ کے متعلق تحریر فرمایا :۔”انہوں نے شادی کے بعد اس گھر کو اپنا گھر اور ہم لوگوں کو اپنے بہن بھائی سمجھا۔ایک گھڑی کو بھی محبت کے بغیر ان کا سلوک یاد نہیں۔ان کی سعید فطرت اور اس پر حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب ( حضرت خلیفہ امسیح الثانی) کی تربیت، گھر کا مبارک ماحول، نیک نمونہ تھا۔جوسونے پر سہا گہ ہو گیا تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ دو برتن بھی ایک جگہ ہوتے ہیں تو کھٹک جاتے ہیں مگر ہم تو ایک بار نہ کھٹکے تھے۔مجھ سے جو محبت تھی وہ آخر دم تک نبھائی حضرت مسیح موعود سے محبت اور حضرت اماں جان سے بھی خاص تعلق تھا۔لحاظ ، شرم و حیا اور صبر ورضا ان کی خصوصیات میں سے تھیں۔حضرت مسیح موعود کی خدمت کی بہت خواہش رہتی تھی۔مجھے یاد ہے زیادہ بے تکلف نہ تھیں۔مگر وضو فرمانے لگتے تو لوٹا اٹھا کر پانی ڈالنے لگتیں۔غرض اس طرح چاہتی تھیں کہ کوئی کام (حضور کا) الفضل ۴۔جولائی ۱۹۲۴ء صفحه م الفضل ۷۔اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۵۸