تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 503
503 احمدیہ کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے والی تھیں۔چنانچہ ۱۹۱۳ء میں جبکہ اس وقت کے نازک حالات کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک اخبار (الفضل) کے اجراء کی ضرورت به مدت محسوس فرمائی تو آپ نے اس اہم دینی اور جماعتی ضرورت کے لئے اپنا زیور پیش کر دیا۔حضرت مصلح موعود آپ کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح ( حضرت ) خدیجہ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے بڑا مذموم تھا اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کر دوں۔اس میں سے ایک تو اُن کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لا ہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے۔یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا اور میرے لئے تو اس کا ہر ایک پرچہ گونا گوں کیفیات کا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔بارہا وہ مجھے جماعت کی وہ حالت یاد دلاتا ہے جس کا مستحق نہ میں اپنے پہلے سلوک کے سبب تھا نہ بعد کے سلوک نے مجھے اس کا مستحق ثابت کیا ہے۔وہ بیوی جن کو میں نے اس وقت تک ایک سونے کی انگوٹھی بھی شاید بنا کر نہ دی تھی اور جن کو بعد میں اس وقت تک میں نے صرف ایک انگوٹھی بنوا کر دی ہے، اُن کی یہ قربانی میرے دل پر نقش ہے۔اگر ان کی اور قربانیاں اور ہمدردیاں اور اپنی سختیاں اور تیزیاں میں نظر انداز بھی کر دوں تو اُن کا یہ سلوک مجھے شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا۔اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کر دیا۔کیا ہی کچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے۔اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔لوگ اس دوکان کو تو یا د رکھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں مگر اس گلاب کا کسی کو خیال بھی نہیں آتا جس نے مرکر ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر