تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 505
505 کروں۔۔۔۔۔دعاؤں میں بے حد شغف تھا۔بہت دعائیں کرنے والی تھیں۔خدا کے فضل سے اوپر تلے اللہ تعالیٰ نے بیٹے بھی دیئے اور بیٹیاں بھی۔مبارک زندگی تھی۔مبارک انجام ہوا۔! حضرت سیدہ ام ناصر الجنہ اماءاللہ کی ابتدائی چودہ ممبرات میں سے تھیں۔ابتدائی چودہ ممبرات میں آپ کا نام یوں درج ہے (۳) حضرت سید محمودہ بیگم حرم حضرت خلیفہ اسیح الثانی ہے لجنہ اماءاللہ کے قیام کے بعد سب ممبرات نے مل کر مشورہ کیا اور حضرت سیدہ محمودہ بیگم (حضرت سیدہ ام ناصر) کو امیر لجنہ اماءاللہ منتخب کیا ہے لجنہ اماءاللہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ سوائے دو سال کے جبکہ آپ بیماری کی وجہ سے رخصت پر تھیں آپ ہی لجنہ اماءاللہ کی صدرر ہیں۔گود نیاوی لحاظ سے آپ نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہ کی تھی لیکن قرآن کریم اور دینی تعلیم پر عبور حاصل تھا۔چنانچہ سینکڑوں لڑکیوں کو آپ نے قرآن مجید پڑھایا۔جیسا کہ لجنہ اماءاللہ کی سب سے پہلی رپورٹ کے مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہر ہے :۔وو دو درس گا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے اندر ہیں۔اول والدہ ناصر احمد صاحب اہلیہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی۔ان کے پاس چھ سات لڑکیاں با قاعدہ قرآن شریف ،عربی اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑھتی ہیں۔“ آپ مضمون بھی بھتی رہی ہیں۔چنانچہ عورتوں کے سب سے پہلا رسالہ احمدی خاتون میں جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے جاری فرمایا تھا کے اکثر پرچوں میں آپ کے مضامین نظر آتے ہیں۔سلسلہ کے لئے ہر مالی قربانی میں آپ کا نام صف اول میں ہوتا تھا۔مسجد برلن کے لئے آپ کا چندہ دوسو روپے تھا۔ا الفضل ۱۳ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۳ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اوّل صفحہ ۷۳ احمدی خاتون سلسله الجدید جلد نمبر ا صفحه 4 تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول صفحہ ۱۲۸ ۵ الحکم ۲۱۔فروری ۱۹۲۳ء صفحه ۷ ۲۔