تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 411 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 411

411 پڑھنے والی طالبات تعطیلات میں دستکاری سیکھیں اور سکول کی بھی آمد ہو۔۱۹۶۳ء سے اس سکول کو سرکاری طور پر ایڈ ملنا شروع ہوئی جو کم و بیش ایک ہزار روپیہ سالانہ اب تک مل رہی ہے۔۱۹۶۷ء میں ۵۵۰۰ روپے کی خصوصی گرانٹ سکول کو ملی جس سے سکول کے لئے مشینری اور فرنیچر خریدا گیا۔محکمہ کی ہدایت کے مطابق ۶۸، ۶۶۹، ۷۰ء میں بھی سکول کو ترقیاتی ایڈ دی گئی۔آئندہ سال سکول میں کھانے پکانے اور خانہ داری کی ٹریننگ کا نصاب بھی شامل کیا جائے گا۔اس سکول نے جماعت کی اہم ضرورت اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک عظیم خواہش کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک خاصی تعداد مستورات اور لڑکیوں کی اس ادارہ سے فارغ ہو کر اپنے گھروں میں سلائی اور دستکاری کا کام کر کے آمد پیدا کر رہی ہے۔ابھی اس معیار کوتو لجنہ نہیں حاصل کر سکی جو سیدنا لمصل حضرت اصلح الموعودؓ نے ۱۹۳۶ء میں مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا تھا:۔وو " لجنہ اماء اللہ کا فرض ہے کہ تمام غرباء اور مساکین کی فہرست تیار کرے اور ان کے لئے کام مہیا کرے تا کہ ہر شخص اپنی روزی خود کما سکے اور یہ بد عادت (سوال کرنے کی ) جو کہ موت کے برابر ہے دور ہو۔نیز ۳ رفروری ۱۹۳۹ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے سامنے لجنہ اماءاللہ کے قیام کی غرض بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا کہ:۔عورتوں کی تربیت کے لحاظ سے میں نے اس کی دوسری شاخ لجنہ اماءاللہ کے نام سے قائم کی ہوئی ہے۔یہ لجنہ صرف دو جگہ اچھا کام کر رہی ہے۔ایک قادیان میں اور دوسرے سیالکوٹ میں۔قادیان میں لجنہ کا زیادہ تر کام جلسے کروانا۔سلسلہ کے کاموں سے عورتوں کو واقف رکھنا ، صنعت و حرفت کی طرف غریب عورتوں کو متوجہ کرنا اور انہیں کام پر لگانا ہے۔یہ کام کو آہستہ آہستہ ہورہا ہے لیکن اگر استقلال اور ہمت سے اس کام کو جاری رکھا گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ بیواؤں اور یتامیٰ کا مسئلہ حل کرنے میں کسی دن کامیاب ہو جائیں گے۔ا مصباح ۱۵ جون ۱۹۳۶ء صفحه ۶ و تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول صفحه ۳۶۱ الفضل ۱۷ فروری ۱۹۳۹ء صفحه ۵ و تاریخ بجنه جلد اول صفحه ۴۳۸