تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 320 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 320

320 احمد یہ ماریشش چند نازک مسائل سے دو چار تھی اس لئے لجنہ کے کاموں کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی جاسکی۔۱۹۵۴ء میں مولوی فضل الہی صاحب بشیر کی آمد سے لجنہ کی تاریخ نے ایک نیا ورق الٹا خصوصاً ان کے ماریشش میں شادی کرنے کی وجہ سے۔۱۹۵۸ء میں روز ہل میں جو کہ احمد یہ مشن کا ہیڈ کوارٹر ہے بندہ کی تنظیم از سرنو قائم ہوئی۔مرزا مینہ تا جو صاحبہ لجنہ کی صدر منتخب ہوئیں۔عورتیں جمعہ کی نماز کے بعد اکٹھی ہوتیں۔اس وقت کا اہم کام دینی تعلیم کی طرف توجہ دلا نا تھا۔۱۹۶۱ء میں مولوی فضل الہی صاحب بشیر کے ماریشش سے چلے جانے کے بعد مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر وہاں آئے اور مس ہدایت سوقیہ صاحبہ نئی صدر منتخب ہوئیں۔انہوں نے لجنہ کے پروگرام میں ٹیبل ٹینس کھیل کا اضافہ کیا جو دار السلام ہال میں کھیلی جاتی تھی مشنری انچارج نے اس کھیل کی منظوری دے دی۔۱۹۶۳ء میں مولوی فضل الہی صاحب بشیر کی دوبارہ آمد پر لجنہ کے کاموں میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی۔اب لجنہ مندرجہ ذیل چھ شاخوں میں منقسم ہوگئی :۔فونکس، روز ہل ، پیلیس ، ٹرائلٹ،مونجھے بلانچ ، سینٹ پیٹر ہر شاخ کو اپنا صدر منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک مرکزی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی جس میں ہر شخص کو نمائندگی دی گئی۔مرکزی کمیٹی کی بھی ایک صدر مقرر کی گئی جو کہ مشنری انچارج کے ماتحت کام کرتی تھی۔لجنہ کی اس نئی تنظیم کے تحت بہت سے کام ہوئے۔عورتوں کی لائبریری کے لئے چندہ اکٹھا کیا گیا۔۱۹۶۴ء میں دار السلام کی نئی مسجد کی تکمیل کے لئے چندہ جمع کیا گیا۔ماریشش کی بہت سی عورتوں نے اس مقصد کے لئے اپنے زیورات پیش کئے۔اسی طرح بعض چھوٹے چھوٹے فنڈ قائم کئے گئے تا کہ غریب لڑکیوں کی شادی کا انتظام کیا جا سکے۔۱۹۶۴ء میں دارالسلام میں مینا بازار منعقد کیا گیا جس کا افتتاح ایک ملک کے ہائی کمشنر کی بیوی نے کیا۔اس مینا بازار کے منافع کی رقم مسجد دار السلام کے رنگ و روغن میں صرف کی گئی۔اسی طرح متعد د تبلیغی کتب کو شائع کرانے کے لئے رقم اکٹھی کی گئی۔مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر کی دوبارہ آمد تک کام اسی پروگرام کے مطابق ہوتا رہا۔مس ہدایت سوقیہ مرکزی کمیٹی کی صدر منتخب ہوئیں۔لجنہ کے پروگراموں میں بعض نئی چیزوں کا اضافہ ہوا۔وقتاً فوقتاً تعلیم القرآن کلاسز منعقد