تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 319 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 319

319 پہلوؤں پر تقاریر کیں۔مندرجہ ذیل مقامات کے جلسوں کی رپورٹیں شائع ہوسکیں :۔ربوه، حیدرآباد، سندھ، گولیکی لے منٹگمری محمد آباد ہے لاہور بیرونی ممالک کی لجنات کی مساعی فری ٹاؤن ( سیرالیون ) ۲ مارچ کو مسجد احمدیہ ( فری ٹاؤن ) میں مقامی لجنہ کا جلسہ منعقد ہوا۔تلاوت قرآن مجید کے بعد احمد یہ نائٹ سکول کے بچوں نے ارکان اسلام اور ارکان ایمان پڑھ کر ان کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔دعائیں کہلائیں۔محمودہ خلیل صاحبہ اہلیہ مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل مبلغ سیرالیون نے لجنہ کے قیام کی غرض وغایت بیان کی اور پہلے سبق کے طور پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور کلمہ طیبہ کو بار بار دہرایا۔اس کے بعد ثمنی زبان میں بری عادات سے بچنے پر ایک تقریر ہوئی۔ایک آدھ درجن قریب غیر از جماعت خواتین بھی اس جلسہ میں شامل ہوئیں۔سے لجنہ اماءاللہ فری ٹاؤن کا دوسرا ماہوار جلسہ ۱۵ راگست کو ہوا جس میں مولوی ابراہیم صاحب خلیل نے اخلاق حسنہ پر تقریر کی۔ہے ماریشش میں لجنہ اماءاللہ کا قیام:۔ماریشش میں احمدیت کا آفتاب ۱۹۱۴ء میں طلوع ہوا۔ابتداء میں چند لوگ حلقہ بگوش احمدیت ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔محترم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب ( جو کہ اس جزیرہ کے چوتھے مبلغ ہیں) کے قیام کے دوران تنظیم لجنہ اماءاللہ کا تصور پیدا ہوا۔محترمہ نصیرہ نز بہت صاحبہ اہلیہ محترم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب عورتوں میں قرآن مجید اور حدیث کا درس دیتی رہیں۔حافظ صاحب کی روانگی کے بعد لجنہ کی تنظیم صحیح طور پر کام نہ کرسکی کیونکہ ان ایام میں جماعت ا الفضل ۲۶ فروری ۱۹۵۲ء ص ۲ کالم ۲۱ ۲ الفضل ۲ مارچ ۱۹۵۲ء ص ۲ مصباح اپریل ۱۹۵۲ء ص ۲۲ ۴ مصباح ستمبر ۱۹۵۲ء ص ۲۵