تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 18
18 آج قادیان میں رہنا بہت بڑا مجاہدہ ہے۔۔تم نہایت استقلال اور جوانمردی سے حفاظت مرکز کی ڈیوٹی دیتے رہو۔اور اگر اس راہ میں جان بھی دینی پڑی تو دریغ نہ کرو یا در کھوتم پر ہم تبھی خوش ہوں گے جب تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بستی قادیان کی حفاظت میں قربانی کا وہ اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاؤ جو ایک احمدی نوجوان کے شایانِ شان ہے۔گھبراؤ نہیں خدا تمہاری مدد کرے گا۔ہم تمہارے ماں باپ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔آمین اللهم آمين اس خط سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان پر آشوب ایام میں احمدی خواتین کے کیا جذبات تھے۔قادیان میں رہنا ان دنوں گویا خودموت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن ایک احمدی ماں رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی صحابیات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خوش تھی کہ اس کا بیٹا قادیان میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ ادا کر رہا ہے بلکہ وہ اسے نصیحت کرتی ہے کہ دیکھنا اگر اس راہ میں جان بھی دینی پڑے تو دریغ نہ کرو۔“ چند احمدی خواتین کے پڑ از ایمان خطوط قادیان میں مقیم بہادر نو جوانوں کے نام: جو احمدی قادیان میں رہ کر اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر حفاظت مرکز کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے تھے اُن کی ماؤں، بہنوں، بیویوں نے بھی اخلاص ، قربانی اور ایمان باللہ کا جو قابل رشک نمونہ دکھا یاوہ یقیناً آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔انہوں نے گھبراہٹ یا بے چینی اور تشویش کا اظہار کرنے کی بجائے ان کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے خطوط میں انہیں لکھا کہ قادیان کے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے استقلال اور ہمت اور جوانمردی کے ساتھ ڈٹے رہو۔“ اس قسم کے ایمان افروز خطوط کے چند اقتباس بطور نمونہ درج ذیل کیے جاتے ہیں۔(۱) اہلیہ صاحبہ مکرم حسن محمد خان صاحب عارف وکیل التجارت کے نے اپنے شوہر کولکھا:۔خدا کرے آپ لوگ جلد قادیان کو فتح کرلیں۔خدا آپ کا اور سب کا حامی و مددگار ہو۔اس کا الفضل ۱۹ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحیہ کالم ۱-۲ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۱۳۹ حال نائب وکیل التبشیر تحریک جدید :-