تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 19 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 19

19 ۱۳۲۶ فضل آپ سب کے شامل حال رہے اور آپ ایسی خدمت دین بجالائیں کہ خدا آپ سے خوش ہو جائے اور زیادہ سے زیادہ اپنی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل فرمائے۔“ ( ۱۹ خاء / اکتوبر (۲) محتر مہ امتہ الطیف بیگم صاحبہ (لاہور) نے اپنے خاوند مکرم ڈاکٹر محمد احمد صاحب کو ایک خط میں لکھا:۔١٩٤٧ء اب میری بھی یہی نصیحت ہے اور اماں جی کی بھی یہی نصیحت ہے کہ وہاں پر خدا کے بھروسہ پر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ وہاں پر ہی حفاظت کرے گا اور ایمان رکھنے والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔آپ اجازت لینے کی بھی کوشش نہ کریں۔ہم سب کو خدا (تعالی) کے حوالے کر دیں۔وہی سب کا پیدا کرنے والا ہے۔جب اس نے پیدا کیا ہے تو وہی حفاظت بھی کرے گا اور کھانے کو بھی دے گا۔اگر اس نے زندہ رکھنا ہے تو ہر طرح رکھے گا اور مدد کرے گا۔اور اگر موت مقدر ہے تو اس سے کہیں بھی مفر نہیں چاہے سات پردوں میں چُھپ جائیں۔میری طرف سے آپ اطمینان رکھیں میں اتنی بزدل نہیں ہوں۔میرا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہے۔اگر اس کی طرف سے ابتلاء آنا ہے تو ہر طرح آنا ہے بس یہی دعا ہے کہ وہ ہر طرح ثابت قدم رکھے اور ہمارا ایمان کسی طرح متزلزل نہ ہو جائے۔“ (۱۰۔اکتوبر ۱۹۴۷ء) ہے (۳) محترمه آمنہ بیگم صاحبہ رتن باغ لاہور نے اپنے خاوند محترم عبدالرحیم صاحب دیانت کو لکھا:۔استقلال اور ہمت سے اور جوانمردی کے ساتھ ڈٹے رہیں اور اس کو فتح کرنا آپکا فرض 66 ہے۔بہر حال جب تک حضور کا حکم نہ ہو آپ قادیان کو چھوڑ کر یہاں بالکل نہ آئیں۔“ (۴) محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ موضع مانگٹ اونچے ضلع گوجرانوالہ سے اپنے شو ہر مکرم محمد شریف صاحب مولوی فاضل واقف زندگی کو لکھا:۔یہ پڑھ کر کہ آپ نے اپنا نام ہمیشہ رہنے کے لئے دے دیا ہے بہت خوشی ہوئی۔اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی عطا فرمائے اور آپ کا حافظ و ناصر ہو“ سے لے ابن حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ:۔تاریخ احمدیت جلدا اصفحہ ۱۳۵ ۳ تاریخ احمدیت جلد ۱۱ صفحه ۱۳۸ تا ۱۴۱:-