تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 160 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 160

160 متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ عورتیں ہمت کر کے اسے پورا کرلیں۔جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء کے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو بتایا تھا کہ کل چندہ مسجد ہالینڈ کو چھیالیس ہزار روپیہ ہوا ہے۔گویا ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں صرف چھ ہزار روپیہ مستورات نے جمع کیا تھا۔اس کی وجہ عورتوں کی سستی نہ تھی بلکہ ایک وجہ تو یہ تھی کہ مسجد کے لئے پہلے مطالبہ ہی ساٹھ ہزار روپے کا کیا گیا تھا اور دوسری وجہ دفتر لجنہ اماءاللہ کی تعمیر تھی جس پر اسی ہزار کے قریب خرچ آیا۔بیک وقت دو چیزوں کی طرف عورتوں کو توجہ کرنی پڑی۔چنانچہ اس شوری پر کثرت رائے سے یہ قرار پایا کہ جس طرح دفتر لجنہ کے چندہ کو تین سال کے عرصہ میں پھیلا دیا گیا تھا اسی طرح اس چندہ کو بھی تین سال کے عرصہ پر پھیلا دیا جائے اور ہر سال ۲۱ ہزار کی رقم جمع کی جائے چنانچہ ۳۰ لجنات کی نمائندگان نے جو شوری میں موجود تھیں آئندہ سال کے لئے اسی وقت اپنے وعدے لکھوائے جن کی میزان -/ ۷۷۳۵ روپے بنتی تھی لے تمام سال لجنہ اماءاللہ مرکز یہ بار بار اعلانات اور عہد یداروں کو خطوط اور سرکلرز کے ذریعہ توجہ دلاتی رہی۔جلسہ سالانہ پر 9 ماہ گزرنے کے بعد جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس عرصہ میں مسجد ہالینڈ کا چندہ مزید سات ہزار چھ سو روپے جمع ہوا ہے اور صرف ۱۹ الجنات نے اس وقت تک اس چندہ میں شمولیت کی ہے۔جلسہ سالانہ ۱۹۵۴ء کے موقع پر ۲۷۔دسمبر کو حضرت مصلح موعودؓ نے مستورات کو پھر اس چندہ کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔عورتوں کے لئے جو ان کا خصوصی فرض مقرر کیا گیا ہے میں اس کی طرف انہیں توجہ دلاتا ہوں اور وہ مسجد ہالینڈ ہے۔ہالینڈ کی مسجد کا بناناعورتوں کے ذمہ لگایا گیا ہے۔مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس فرض کو عورتوں نے اس تندہی سے ادا نہیں کیا جس طرح کہ وہ پہلے ادا کیا کرتی تھیں۔مسجد ہالینڈ کا سا را چندہ اس وقت تک غالباً ساٹھ پینسٹھ ہزار کے قریب ہوا ہے لیکن اس کے اوپر جو خرچ کا اندازہ ہے وہ جیسا کہ میں نے پچھلے سال بیان کیا تھا قریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے کا ہے بلکہ اب تو کچھ اور وتیں پیدا ہوگئی ہیں یعنی جو آرچی ٹیکٹ (ARCHITECT) تھا اس نے اپنا نقشہ دیتے ہوئے ے رپورٹ مجلس شوری لجنہ اماءاللہ ، مصباح فروری ۱۹۵۴ء صفحه ۳۵ مصباح اکتوبر ۱۹۵۴ء صفحه ۲۴