تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 161 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 161

161 لکھ دیا کہ ساٹھ ہزار میں مسجد بنے گی۔جب دوسرے ماہرین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نوے ہزار لگے گا۔اب اگر ان کا اندازہ صحیح ہو تو تو ے ہزار یہ اور تمیں ہزار کی زمین ہے ایک لاکھ بیس ہزار ہوا۔پھر جو گرانی وغیرہ پر خرچ ہوگا پانچ چھ ہزار اس کا بھی اندازہ لگا لو۔پانچ چھ ہزار فرنیچر کالگا لوتو ایک لاکھ میں ہزار بن گیا۔اس لحاظ سے بھی قریب ستر ہزار کی رقم کی ضرورت ہے۔مجھے ابھی چلتے وقت دفتر نے رپورٹ بھجوائی ہے کہ سارے سال میں عورتوں سے اکیس ہزار روپیہ مانگا گیا تھا اور انہوں نے نو ہزار جمع کر کے دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک کے منتظمین میں بھی کسی قدر سستی پائی جاتی ہے یا یہ کہو کہ ان کو کام کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔جو ان سے پہلے لوگ گزرے ہیں وہ کام کروالیتے تھے لیکن موجودہ عہدہ دار جو پچھلے سال سے بدلے ہیں کام کروا نہیں سکتے لیکن ہانپتے ضرور ہیں کہ ہم نے اتنا کام کیا اور یوں لوگوں میں شور مچایا لیکن بہر حال شور مچانا وہی کارآمد ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ بھی نکلے۔اگر نتیجہ نہیں نکلتا تو ہم یہ سمجھیں گے کہ کام کرنے والے کے طریق کار میں کوئی نقص ہے۔مثلاً لجنہ ہے لجنہ نے اپنا ہال وغیرہ بنا لیا ہے اور اس پر انہوں نے پچاس ہزار کے قریب روپیہ لگایا ہے وہ آخر جمع ہو گیا کہ نہیں۔اور وہ روپیہ انہوں نے اس صورت میں اکٹھا کیا ہے جبکہ ابھی مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتیں دے رہی تھیں۔جب وہ ان سے ایک مقامی ہال کیلئے ایک دو سال میں اتنی رقم جمع کر سکتی تھیں تو وہ مسجد جو کہ نسلوں تک عورتوں کا نام بلند کرنے اور ان کے ثواب کو زیادہ کرنے کا موجب ہو سکتی تھی اس کے چندہ کے جمع کرنے میں وہ کیوں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔یقینا کام کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے اور کم سے کم مجھ پر یہی اثر ہے۔بڑا ذریعہ ہمارے ہاں اشتہارات کا اور لوگوں کو توجہ دلانے کا اخبار ” الفضل“ ہوتا ہو مگر میں نے تو ” الفضل میں کبھی ایسی شکل میں یا اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں پڑھا کہ جس سے مجھ پر یہ اثر ہوا ہو کہ صحیح کوشش کی جارہی ہے۔پس میں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی ان کے ذمہ اسی ہزار روپیہ پورا کرنا ہے۔اور اب تو مسجد کے نقشے وغیرہ بن گئے ہیں اور کچھ مقدمہ بازی بھی شروع ہو گئی ہے کیونکہ آرچی ٹیکٹ (ARCHITECT) نے کہا ہے کہ تم نے کئی نقشے بنوائے ہیں سب کی قیمت دو اور ہمارے آدمی کہہ رہے ہیں کہ جو نقشے کام نہیں آئے ان کی قیمت کیوں دیں۔اب اس نے نالش کر دی ہے اور اس نے وہاں کی عدالت کے سمن ربوہ میں بھجوائے ہیں حالانکہ اس سے معاہدہ تو مقامی امیر یا امام نے کیا تھا۔اس کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ نہ تحریک وہاں پہنچے گی اور نہ عدالت میں اپنا جواب دے گی اور یک طرفہ ڈگری ہو جائے گی۔اگر وہ مسجد