تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 159 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 159

159 عورتوں میں نظر آتے ہیں وہ ایک دفعہ تو انسانی دل کو کپکپا دیتے ہیں۔مرد بھی بیشک بڑی بڑی قربانی کرتے ہیں مگر جو روح خدائیت کی عورتوں میں نظر آتی ہے وہ مافوق الانسانیت معلوم ہوتی ہے۔پس تمہیں اپنے اس امتیاز کو قائم رکھنا چاہئیے اور اپنے ذمے جو چندہ اور فرائض ہیں انہیں پورا کرنا چاہیئے۔جلسه سالانہ ۱۹۵۳ء کے موقع پر ۲۷۔دسمبر کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھر مسجد ہالینڈ کے چندہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔ایک اور تحریک میں نے عورتوں میں مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی کی تھی۔اس چندہ میں پہلے سال تو عورتیں مردوں سے بڑھ گئیں۔بعد میں چونکہ مردوں والی تحریک کو ایک وسیع رنگ دے دیا گیا اس وجہ سے عورتوں نے اس اثناء میں اپنا ہال بھی بنایا جس کی مردوں کو اب تک توفیق نہیں ملی۔میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں عورتوں کو ہالینڈ کی مسجد کے لئے چندہ کی پھر تحریک کروں۔اس چندہ میں اس وقت تک ۵۲ ہزار کے قریب روپیہ آچکا ہے اور اندازہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کا ہے گویا تریسٹھ ہزار روپیدا بھی باقی ہے۔میں عورتوں میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ ہمت کر کے اسے بھی پورا کر لیں۔اور مجھے امید ہے کہ وہ پورا کریں گی۔عورت جب ارادہ کر لیتی ہے تو بسا اوقات اس کا عزم مردوں سے بڑھ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ ایسا ہی بنایا ہے کہ باوجود بعض لحاظ سے کمزور ہونے کے متواتر اور مسلسل قربانی کے میدان میں مردوں سے آگے ہوتی ہے۔پس مجھے امید ہے کہ وہ اپنے اس چندہ کو بھی پورا کریں گی۔لجنہ اماءاللہ کا ہال بھی اس طرح تعمیر ہو ا تھا کہ اس کے چندہ میں جو کمی تھی اُسے ہم نے قرض لے کر پورا کیا اور بعد میں عورتوں نے اپنا چندہ پورا ادا کر کے اس قرضہ کو اُتار دیا۔در حقیقت قرض کو اتارنے کی یہ مثال بھی عورتوں نے ہی قائم کی ہے۔لجنہ اماءاللہ کی آٹھویں شوری ۲۷۔دسمبر ۱۹۵۳ء کی رات کو منعقد کی گئی۔اس شوری میں حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت کی روشنی میں جو حضور نے مستورات کو دی تھیں مسجد ہالینڈ کے لئے مزید چندہ جمع کرنے کے سوال پر غور کیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ مسجد پر خرچ کا اندازہ ہے جس میں سے دسمبر ۱۹۵۳ء تک باون ہزار روپیہ چندہ آچکا تھا مزید تریسٹھ ہزار روپیہ کے ل الازهار لذوات الخمار حصہ دوم صفحه ۱۳۴۰، الفضل ۳۱۔دسمبر ۱۹۵۲ء صفحه ۳ ل الازهار لذوات الخمار صفحه ۱۴۸،۱۴۷، مصلح ۵۔جنوری ۱۹۵۴ء صفحه ۲-۳