تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 132 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 132

132 موقع پر ربوہ کے مردوں اور عورتوں کی طرف سے صدقات بھی دیئے گئے۔حضور کے دفتر کے علاوہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور کی چاروں حرم کے لئے کچے مکان تعمیر کئے گئے تھے جن میں آپ قیام فرما ہوئے۔دوپہر کا کھانا دارالضیافت کی طرف سے پیش کیا گیا اور شام کا اہلِ ربوہ کی طرف سے۔کچھ دنوں کے بعد حضور پھر لاہور تشریف لے گئے کیونکہ حضور کی حرم اور جنرل سیکرٹری لجنہ مرکز یہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی بیمار تھیں اور ہسپتال میں داخل تھیں ان کے روبصحت ہونے پر حضور ان کے ہمراہ ے۔نومبر ۱۹۴۹ء کور بوہ تشریف لائے۔اس موقعہ پر الفضل نے لکھا کہ یہ گویار بوہ کی مستقل رہائش کی تکمیل کا دن تھا۔“ 1 دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ میں : ستمبر ۱۹۴۷ء سے ستمبر ۱۹۴۹ء تک لجنہ کا دفتر (حضرت جنرل سیکرٹری صاحبہ کے عارضی قیام تک ) رتن باغ لاہورہی میں رہا اس کے بعد ربوہ میں حضور کے کچے مکانوں کے ساتھ دو کچے کمروں ایک چھوٹے برآمدہ اور صحن میں یہ دفتر قائم ہو گیا اور باقاعدہ کام شروع ہو گیا۔محترمہ سراج بی صاحبہ کلرک تھیں جو ۲۔فروری ۱۹۴۵ء کو دفتر لجنہ میں ملازم ہوئی تھیں۔اس جلد کا بہت سا قیمتی ریکارڈ انہی کے لکھے ہوئے ریکارڈ سے حاصل ہوا ہے۔یہ کچا دفتر لجنہ اماءاللہ نے اپنے خرچ سے تعمیر کروایا تھا۔مسجد مبارک ربوہ کاسنگ بنیاد: ۳۔اکتوبر ۱۹۴۹ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مسجد مبارک ربوہ کا سنگ بنیا درکھا۔ضلع امراء جماعت کے علاوہ نزدیکی مقامات کے بہت سے احمدی اس تقریب میں شامل ہوئے۔عورتوں کے لئے پردہ کا انتظام تھا اور اس طرح ان کو بھی اس تاریخی اہمیت کی حامل بابرکت تقریب میں شامل ہونے کا موقع حضور نے عطا فرمایا۔حضور کے ارشاد پر عورتوں کی پہلی دو صفوں میں علی الترتیب خواتین مبارکہ خاندان حضرت مسیح موعود اور صحابیات اور پھر مہاجرات قادیان کو کھڑا کیا گیا۔سے الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۴۹ء صفحه ۲ الفضل ۲۰۔اکتوبر ۱۹۴۹ء صفحه ۳ کالم نمبر۴ الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۴۹ء صفحه ۳