تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 130
130 رَبِّ ادْ خِلْنِي مُدْ خَلَ صِدْقٍ وَ اَخْرِ جُنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلُ لِي مِن لَّدُ نُكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔حضور کی کار ربوہ پہنچی تو مرد مکان کے باہر سائبان کے نیچے جمع تھے اور عورتیں مکان کے اندر تھیں۔محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب امیر مقامی بھی موجود تھے اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے سابق ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، محترم مولانا ابو العطاء صاحب کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان اور تحریک جدید انجمن احمدیہ کے وکلا ء صاحبان بھی موجود تھے۔حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ کی زیر نگرانی عاجزہ کو بھی استقبال کے انتظامات میں حصہ لینے کا موقع ملا۔اتفاقا وہ کاغذ میرے پاس محفوظ ہے جس پر ڈیوٹی کے لئے عورتوں کے نام لکھے تھے۔ان ناموں کی تفصیل درج ذیل کی جاتی ہے:۔ا۔محترمہ بیگم صاحبہ محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ۲- محترمه سیده بشری صاحبہ ۳ محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه ۴ محترمہ امته الرحمن صاحبہ عمر ۵ محترمه استانی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت حافظ روشن علی صاحب ۶- محترمہ امتہ الرشید شوکت صاحبہ اہلیہ محترم ملک سیف الرحمن صاحب محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم عبدالرحیم صاحب در ولیش ۸- محترمه استانی سلیمہ صاحبہ ۹ محترمه استانی کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ محترم نور احمد صاحب ۱۰۔محترمہ زینب بیگم صاحبہ اہلیہ محترم عبدالواحد صاحب محترمہ والدہ صاحبہ مولوی محمد صدیق صاحب ۱۲۔محترمہ مائی نعمت بی بی صاحبہ ۱۳ محترمه استانی برکت بی بی صاحبہ اہلیہ محترم ٹھیکیدار اللہ یار صاحب