تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 129 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 129

129 لئے اور ایک روح کے لئے۔ایک سے جسم کام کے قابل بنتا ہے اور دوسرے سے روح کام کے قابل بنتی ہے۔جسم میں جب طاقت پیدا ہوتی ہے تو انسان نوکری کرتا ہے تجارت کرتا ہے اور دنیا کے دوسرے کام کرتا ہے۔اسی طرح جب انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے تو وہ مختلف کام کرتا ہے۔وہ کام کیا ہیں ؟ وہ کام دو قسم کے ہیں۔ایک تو اس کا کام مخفی ہوتا ہے اور وہ خدا تعالی کی محبت میں ترقی کرنا ہوتا ہے دوسرا کام انسانی دماغ کی اصلاح اور اس کے نتیجہ میں انسان ہل چلاتا ہے، تجارت کرتا ہے ،صنعت و حرفت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے۔انسان کے جسم میں طاقت ہو تبھی وہ اچھا سپاہی ، اچھا وکیل اور اچھا مدرس بن سکتا ہے۔اسی طرح روحانی غذاؤں نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج ، اور ذکر الہی وغیرہ کے نتیجہ میں انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے اور اس طاقت کے نتیجہ میں اس کے اخلاق درست ہو جاتے ہیں۔اس میں خدمت خلق کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور دوسروں سے بھی کرواتا ہے۔مثلا جھوٹ نہیں بولتا اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی جُھوٹ نہ بولیں۔وہ دوسروں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ دوسروں کو بھی تلقین کرتا ہے کہ وہ بھی دوسروں پر ظلم نہ کریں اس کے خیالات پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور وہ دوسروں کے خیالات کو بھی پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔غرض اس کی روح رات دن حقوق کی اصلاح میں لگی رہتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ربوہ میں مستقل رہائش: اپریل ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ عارضی طور پر ربوہ تشریف لائے اور جلسہ کے بعد واپس لاہور تشریف لے گئے۔اس کے بعد ربوہ میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے لئے حضور ۱۹۔ستمبر ۱۹۴۹ء کو ڈیڑھ بجے بعد دو پہر تشریف لائے اور ان عارضی کچے مکانوں میں سکونت اختیار فرمائی جو اس غرض کے لئے تعمیر کئے گئے تھے۔حضور کے اس تاریخی سفر کی اہمیت کے پیش نظر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی حضور کے ہمراہ لاہور سے ربوہ تشریف لائے اور آپ نے مکمل حالات قلمبند فرما کر الفضل میں شائع فرمائے ہے جب حضور کی کار دریائے چناب پر سے گزری اور پھر ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوئی تو حضور نے قرآن مجید کی یہ دعائیں پڑھنی شروع کیں جو ہجرت کے وقت آنحضرت علہ کوسکھائی گئی تھیں۔ل الازهار لذوات الخمار صفحه ۴۴ - ۵۵ و صفحه ۵۴-۵۵، مصباح دسمبر ۱۹۵۰ء الفضل ۲۳ - ستمبر ۱۹۴۹ء صفحه ۳